پاکستان میں ذہنی مریضوں کی تعداد ۳ کروڑ ۲۰ لاکھ سے تجاوز کرگئی: وزارت صحت

images 13 9


اسلام آباد: وزارت صحت نے قومی اسمبلی میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ذہنی امراض کے شکار افراد کی تعداد ۳ کروڑ ۲۰ لاکھ ۴۰ ہزار سے تجاوز کرگئی ہے، جبکہ ملک بھر میں رجسٹرڈ ماہرینِ نفسیات کی تعداد صرف ۱,۰۵۰ ہے۔ یہ اعداد و شمار ملک میں ذہنی صحت کی سہولیات کی شدید کمی اور علاج کے بڑے خلا کی نشاندہی کرتے ہیں۔
وزارت صحت کی جانب سے قومی اسمبلی میں گلوبل برڈن آف ڈیزیز اسٹڈیز کے اعداد و شمار پیش کیے گئے، جن کے مطابق پاکستان میں ذہنی امراض سے متاثرہ افراد کی تعداد ۳ کروڑ ۲۰ لاکھ ۴۰ ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۳ء تک وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ذہنی امراض کے مریضوں کی تعداد ۳ لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔
پاکستان ہیلتھ ورک فورس سروے ۲۰۲۶ء کے مطابق ملک بھر میں رجسٹرڈ ماہرینِ نفسیات کی تعداد صرف ۱,۰۵۰ ہے، یعنی آبادی کے تناسب سے ہر ۲ لاکھ ۴۵ ہزار ۴۰۰ افراد کے لیے صرف ایک ماہرِ نفسیات دستیاب ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں ۴۰۶، سندھ میں ۲۲۸، خیبر پختونخوا میں ۱۲۲ اور بلوچستان میں صرف ۴۴ ماہرینِ نفسیات خدمات انجام دے رہے ہیں۔
وزارت صحت کے مطابق پاکستان میں تقریباً ۳ کروڑ ۲۰ لاکھ افراد کو ذہنی صحت کی دیکھ بھال کی ضرورت ہے، جبکہ علاج کا خلا تقریباً ۹۵ فیصد ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ہر ایک لاکھ افراد پر تقریباً ۰.۱۹ ماہرِ نفسیات موجود ہیں، جبکہ اعلیٰ آمدنی والے ممالک میں یہ شرح اوسطاً ہر ایک لاکھ افراد پر ۷ ماہرینِ نفسیات ہے۔
حکومت نے پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ ۲۰۲۶ء کے موقع پر قومی ذہنی صحت پالیسی ۲۰۲۶ء تا ۲۰۳۵ء کا آغاز کیا، جس کا مقصد ملک بھر میں ۳ کروڑ ۲۰ لاکھ سے زائد افراد تک ذہنی صحت کی خدمات پہنچانا ہے۔ اس پالیسی میں بنیادی اور کمیونٹی سطح کی دیکھ بھال کو وسعت دینے، ماہرین کی تعداد بڑھانے اور ذہنی صحت کو قانون، بجٹ اور صحت کے نظام میں شامل کرنے کی ترجیحات شامل ہیں۔

متعلقہ پوسٹ