اسرائیل کے عام انتخابات کے سرکاری نتائج کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو کے اتحاد نے 120 رکنی کنیسٹ میں 53 نشستیں حاصل کی ہیں، لیکن حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل نہیں کر سکا۔ نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ 27 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بنی رہی۔
سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد نے 48 نشستیں جیتیں، جبکہ عرب جماعتوں نے 19 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ نیتن یاہو کے اتحاد کی کارکردگی ان کے پچھلے پارلیمانی دور سے نمایاں طور پر کمزور رہی، کیونکہ سابقہ کنیسٹ میں ان کے اتحاد کے پاس 68 نشستیں تھیں۔
نتائج کے بعد لیکوڈ نے عرب جماعتوں پر انتخابی عمل میں مداخلت اور "ووٹ چوری” کے غیر مصدقہ الزامات عائد کیے۔ جماعت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ قطر نے عرب جماعتوں کو ووٹ خریدنے کے لیے فنڈز فراہم کیے، تاہم متعلقہ جماعتوں اور قطر نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔
گادی آئزن کوٹ نے نیتن یاہو کے کیمپ پر الزام لگایا کہ وہ اپنی اکثریت کھونے کے بعد انتخابی نتائج کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نیتن یاہو ابھی وزیراعظم کے عہدے پر برقرار ہیں، لیکن حکومت سازی کے لیے جماعتوں کے درمیان مشکل مذاکرات متوقع ہیں۔
اگر کوئی امیدوار 61 اراکین کنیسٹ کی حمایت حاصل نہ کر سکے تو اسرائیل کو اگلے سال کے آغاز میں دوبارہ عام انتخابات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے کہا ہے کہ نئے انتخابات سے ہر صورت بچنا چاہیے۔

