واشنگٹن — امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے سیٹلائٹ تصاویر، ایرانی فوجی بیانات اور امریکی حکام سے گفتگو کی بنیاد پر جائزہ لیا ہے کہ جنگ کے پہلے چھ ماہ میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی والی 24 تنصیبات کی کم از کم 274 عمارتیں اور سہولتیں متاثر ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق صرف جنگ کے ابتدائی دو ہفتوں میں 13 تنصیبات کی 119 عمارتیں نقصان کا شکار ہوئیں، جن میں سے زیادہ تر کویت میں واقع تھیں۔ متاثرہ سہولیات میں ریڈار، طیاروں کے ہینگر، کمانڈ سینٹرز، گودام، مواصلاتی نظام، ایندھن کی سہولیات، ایئر ڈیفنس اور فوجیوں کی رہائش گاہیں شامل ہیں۔
سب سے زیادہ متاثر ہونے والے مقامات میں اردن کا موفق السلطی ایئر بیس شامل ہے، جہاں 17 جولائی کے ایرانی حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک اور کم از کم 19 عمارتیں، بشمول فوجیوں کی رہائش گاہیں، نقصان کا شکار ہوئیں۔ بحرین میں امریکی بحریہ کی پانچویں فلیٹ کے ہیڈکوارٹر کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔
پینٹاگون کا اندازہ ہے کہ اڈوں کو پہنچنے والا نقصان کم از کم 5 ارب ڈالر ہے، جبکہ وال اسٹریٹ جرنل کو بتائے گئے اندازوں کے مطابق یہ رقم 15 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ سی ایس آئی ایس کے مطابق صرف عمارتوں کی دوبارہ تعمیر پر 4 ارب ڈالر سے زائد خرچ آ سکتا ہے، جس میں اندرونی آلات اور نظاموں کی تبدیلی شامل نہیں۔

