ماسکو/اوڈیسا — یوکرین کے ساتھ جاری روس-یوکرین جنگ نے بحیرہ اسود کے سمندری ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یوکرینی ماہر ماحولیات ایوان روسیف کے مطابق، 2022ء میں روس کے مکمل پیمانے پر یوکرین پر حملے کے آغاز کے بعد سے اب تک ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد ڈولفن ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ تخمینہ بحیرہ اسود میں موجود سمندری ستھنوں کے تقریباً چوتھائے حصے کے برابر ہے۔
ماہرین کے مطابق جنگ کے دوران دھماکے، جہازوں سے کروز میزائل کے اجرا، بحری بارودی سرنگوں کے پھٹنے اور فوجی سونار سسٹم ڈولفنز کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔ سونار کی بلند آواز ڈولفنز کی ایکولوکیشن یعنی آواز کے ذریعے راستہ تلاش کرنے، بات چیت کرنے اور شکار کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ بھٹک جاتے ہیں، مچھلی نہیں پکڑ پاتے اور کمزور ہو کر ساحل پر یا جالوں میں پھنس جاتے ہیں۔
ٹوزلی لیگونز نیشنل پارک کے ہیڈ ریسرچر ایوان روسیف نے کہا کہ صرف 2022ء میں تقریباً 50 ہزار ڈولفن ہلاک ہوئے، جبکہ 2026ء تک یہ تعداد ایک لاکھ 20 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ ان کے بقول ساحل پر ملنے والی لاشوں کو بنیاد بنا کر کیا گیا یہ تخمینہ کم از کم تعداد ہے، کیونکہ بڑی تعداد میں مردہ ڈولفن گہرے پانی میں ڈوب جاتے ہیں اور ساحل تک نہیں پہنچتے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جنگ سے پیدا ہونے والی آلودگی، ایندھن اور زہریلے کیمیکلز کے رساؤ، مچھلی کی کمی اور سمندری شور نے نہ صرف ڈولفنز بلکہ پرندوں اور پورے بحیرہ اسود کے غذائی نظام کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق اس نقصان سے بحالی میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

