واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو وارننگ دی ہے کہ تہران کو جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ کرنا ہوگا، ورنہ واشنگٹن معاملے کو جلد اپنے طریقے سے ختم کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے جنگ “بہت جلد، کسی نہ کسی طرح” ختم ہوگی۔
آئیووا میں انتخابی ریلی سے قبل ریڈیو نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، “یا تو وہ معاہدہ کریں گے یا ہم خود ہی اسے ختم کر دیں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ شاید “آسان طریقے” سے بھی ختم کیا جا سکتا ہے، لیکن انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ لوگوں کی جانیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، اسی لیے ایران کے خلاف کارروائی ابھی مکمل نہیں کی۔ “میں اچھا ہونا چاہتا ہوں اور جتنا ممکن ہو ان تمام جانیں بچانا چاہتا ہوں، لیکن کسی نہ کسی مرحلے پر ہمیں انہیں سخت کارروائی سے نمٹانا ہوگا،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف تہران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ وٹکوف اس میں کامیاب ہوں گے، لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکہ “تھوڑا سخت طریقہ” اپنائے گا۔
اس سے قبل ٹرمپ نے فلوریڈا میں کہا تھا کہ امریکہ نے ایران کی جوہری صلاحیت کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے، لیکن ایک یا دو مقامات اب بھی باقی ہیں جنہیں وہ دس منٹ میں نمٹا سکتے ہیں۔ انہوں نے نطنز کے قریب مبینہ زیرِ زمین جوہری تنصیب “پک ایکس ماؤنٹین” کا بھی حوالہ دیا۔
ٹرمپ نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کا عزم دہرایا اور کہا کہ تہران معاہدہ چاہتا ہے، مگر وہ اس کی باتوں پر بھروسہ نہیں کرتے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ابھی کوئی معاہدہ طے نہیں ہوا اور اس کا انحصار امریکہ کے ایران کے سوالات کے جوابات پر ہے۔

