برطانیہ نے نئے امیگریشن قوانین کا اعلان کردیا

news 1793644744 7124



news 1793644744 7124

(ویب ڈیسک)برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے نئے امیگریشن قوانین کا اعلان کردیا ہے۔

 نئے امیگریشن قوانین کے مطابق سوشل کیئر کے شعبہ میں 25 ہزار پاؤنڈ سالانہ کمانے والے 5 برس بعد ہی مستقل قیام کی درخواست دے سکیں گے۔ اس سے قبل ایسے افرادکو مستقل قیام کے لیے 15 بر س تک رہائش پذیر ہونا ضروری تھا۔

شبانہ محمودکے مطابق مئی 2025 سے پہلے آنے والے اس سہولت سے مستفید ہوسکیں گے۔

 برطانوی وزیر داخلہ نے بتایا کہ کم آمدنی والے دیگر ورکرز کے لیے مستقل قیام کی شرط کو 10 برس کردیا گیا ہے، جب کہ 50 ہزار سے زائد کمانے والے اور صحت و تعلیم میں خدمات سر انجام دینے والے 5 برس بعد ہی مستقل قیام کےلیے درخواست دے سکیں گے۔مجرمانہ ریکارڈ، انگریزی نہ بولنے، قرضہ ادا نہ کرنے اور نیشنل انشورنس ادا نہ کرنے والوں کو مستقل رہائش سے انکار کیا جائےگا۔

شبانہ محمود کا کہنا تھا کہ قانونی راستے سے آکر پناہ طلب کرنے والے 5 برس بعد مستقل قیام کی اجازت طلب کرسکیں گے، جب کہ غیرقانونی تارکین وطن 20 برس بعد مستقل قیام کی درخواست دے سکیں گے، برطانیہ میں تعلیم یا ملازمت کرنے والوں پر بھی اسی شرط کا اطلاق ہوگا، ملازمت یا تعلیم حاصل نہ کرنے والوں کے مزید 10 برس بڑھ کر 30 سال ہوجائیں گے، برطانیہ میں رہنے کا حق اب خود بخود نہیں ملے گا اسے محنت کرکے حاصل کرنا ہوگا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق امیگریشن قوانین کے تحت مستقل قیام کا حق رکھنے والا فرد جب تک چاہے قیام کرسکتا ہے،کام اور تعلیم حاصل کرنے کا حق بھی رکھتا ہے، مستقل قیام کی صورت میں اہل ہو تو وہ  سہولیات کے لیے درخواست دینےکے علاوہ برطانوی شہریت کے لیے بھی رجوع کرسکتا ہے۔

 میڈیا رپورٹ شبانہ محمود کو سابقہ حکومت کے دور میں نیٹ مائیگریشن کے بعد مستقل رہائش کے اہل افراد کی تعداد پر تشویش ہے۔ شبانہ محمودکو پہلے سے ملک میں موجود افراد پر نئے قوانین کے ممکنہ نفاذ پر حکومت کے اندر ہی تنقیدکا سامنا تھا۔ ہاؤسنگ سیکرٹری انجیلا رینر سمیت متعدد لیبر ارکان پارلیمنٹ نے شبانہ محمودکی مجوزہ تجاویز کو غیر برطانوی قرار دیا تھا۔ شبانہ محمودکا مؤقف تھا کہ امیگریشن سسٹم میں اصلاحات کا مقصد عوام پر مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق ہوم آفس کے مطابق 2021 سے 2024 کے درمیان برطانیہ کی آبادی میں 2.6 ملین افراد کا اضافہ ہوا۔ ہوم آفس کی پیشگوئی کے مطابق 2026 سے 2030 تک 1.6 ملین افراد برطانیہ میں آباد ہوسکتے ہیں۔

خیال رہےکہ شبانہ محمود اسی امیگریشن سسٹم نظام کی تشکیل نو کر رہی ہیں جس کے تحت ان کے والدین کشمیر سے یہاں آئے تھے۔

برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم کے مطابق  یہ کہنا مشکل ہےکہ قانونی مائیگریشن کی سطح بہت زیادہ ہے یا بہت کم، قانونی مائیگریشن میں نمایاں کمی آئی ہے، 2025 میں نیٹ مائیگریشن 171,000 رہی، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں نصف ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ