تل ابیب: اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے بعد حکومت سازی کی کشمکش کے دوران سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت ’ٹوگیدر‘ صدر اسحاق ہرزوگ کو یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ کو اگلی حکومت بنانے کی ذمہ داری دینے کی سفارش کرے گی۔ بینیٹ نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران ووٹروں کے فیصلے کا احترام کرنے کا وعدہ کیا تھا، اور یہ فیصلہ اسی کے مطابق ہے۔
حتمی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کی لیکوڈ 27 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت ہے، جبکہ آئزنکوٹ کی یاشار کو 21، بینیٹ کی ٹوگیدر کو 12 اور یائر گولان کی ڈیموکریٹس کو 8 نشستیں ملی ہیں۔ نیتن یاہو کے اتحاد کے پاس 53 نشستیں ہیں، اپوزیشن کے پاس 48 اور عرب جماعتوں کے پاس 19 نشستیں ہیں؛ 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں۔
رپورٹس کے مطابق گولان کی ڈیموکریٹس پارٹی بھی آئزنکوٹ کی حمایت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ اویگڈور لیبرمین کی جماعت یسرائیل بیتینو نے بھی اسی سفارش کا اعلان کیا ہے۔ صدر ہرزوگ 4 نومبر سے جماعتوں سے مشاورت شروع کریں گے، اور حکومت سازی کا مینڈیٹ ملنے والے امیدوار کو ابتدائی طور پر 28 دن مل سکتے ہیں، جن میں 14 دن کی اضافی توسیع ممکن ہے۔

