
(ویب ڈیسک)امریکی وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی کے بعد ڈیموکریٹس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو چیلنج کرنے کے لیے قانون سازی اور تحقیقات کی تیاری شروع کر دی ہے۔
ریپبلکن پارٹی کے روایتی طور پر مضبوط سمجھے جانے والے علاقوں میں کامیابی کے بعد ڈیموکریٹس نے مہنگائی، ایران جنگ اور ٹرمپ انتظامیہ کے مبینہ اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف کارروائی اور بدعنوانی کے معاملات کو اپنی ترجیحات قرار دیا ہے۔
اس حوالے سے ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما حکیم جیفریز نے حکومت میں ہونے والی بدعنوانی کے خلاف کارروائی کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، حکیم جیفریز جنوری میں نئی کانگریس کے اجلاس کے بعد ایوان کے پہلے سیاہ فام اسپیکر بن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز افراد اپنی، اپنے خاندانوں، دوستوں یا مالی معاونین کی دولت بڑھانے میں مصروف ہوں گے تو وہ امریکی عوام کی زندگی بہتر بنانے پر توجہ نہیں دے سکیں گے۔
تاہم کانگریس میں اکثریت کے باوجود ڈیموکریٹس کو مکمل اختیار حاصل نہیں ہوگا، صدر ٹرمپ کے پاس قانون سازی کو ویٹو کرنے کا اختیار موجود رہے گا جبکہ سینیٹ کے قواعد کے تحت ریپبلکن ارکان قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت اجلاس، منشیات کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا فیصلہ
پہلے 100 گھنٹے میں کیا ہوگا؟
حکیم جیفریز نے ایوانِ نمائندگان کے پہلے 100 گھنٹوں میں عوام کو درپیش معاشی مشکلات سے متعلق قانون سازی کا وعدہ کیا ہے، ان کی ترجیحات میں صحت کے انشورنس پروگرام کے تحت ختم ہونے والی سبسڈی بحال کرنا، ٹرمپ دور میں میڈیکیڈ پروگرام میں کی گئی تقریباً ایک کھرب ڈالر کی کٹوتیوں کے فیصلے کی واپسی، درآمدی محصولات میں کمی اور ایران جنگ ختم کرنے کے لیے اقدامات شامل ہیں۔
دونوں ایوانوں میں اکثریت کے باعث ڈیموکریٹس اپنے مجوزہ بلوں پر ووٹنگ کرا سکتے ہیں اور سرکاری اخراجات سے متعلق مذاکرات میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، وہ وفاقی بجٹ کی مقررہ تاریخوں کو بھی حکومت سے رعایتیں لینے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں تاہم اخراجات کے معاملے پر اختلافات کے باعث حکومتی شٹ ڈاؤن کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
’وکیل کر لیں‘
ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کی جانچ پڑتال اور ان سے جواب طلبی بھی ڈیموکریٹس کے لیے ٹرمپ کو چیلنج کرنے کا ایک فوری ذریعہ ہو سکتی ہے۔
ایوانِ نمائندگان کی طاقتور اوور سائٹ کمیٹی کے متوقع ڈیموکریٹ سربراہ رابرٹ گارسیا نے انتخابی نتائج کے بعد سوشل میڈیا پر ریپبلکن ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’وکیل کر لیں‘، سینیٹر رون وائیڈن نے بھی ایک لفظ میں اپنا پیغام دیا، ’عدالتی طلبیاں‘۔
کمیٹیوں کا کنٹرول حاصل ہونے کے بعد ڈیموکریٹس سرکاری حکام کے علاوہ دستاویزات بھی طلب سکتے ہیں اور عوامی سماعتیں کر سکتے ہیں،اس طرح صدر ٹرمپ اور ان کے اعلیٰ معاونین کو سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 4 آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر تباہ
ممکنہ تحقیقات میں ٹرمپ فیملی کے کاروباری اور کرپٹو کرنسی سے متعلق معاملات، ارب پتی ایلون مسک سے منسلک سرکاری معاہدے، وفاقی اداروں میں کی گئی کٹوتیاں، امیگریشن پالیسی اور ایران جنگ سے متعلق فیصلے شامل ہو سکتے ہیں۔ ڈیموکریٹس بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات کے معاملے پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ دستاویزات یا بیانات دینے سے انکار کر سکتی ہے جس کے نتیجے میں قانونی لڑائی شروع ہونے کا امکان ہے۔
ڈیموکریٹس صدر ٹرمپ کے مواخذے کی تیسری کارروائی بھی شروع کر سکتے ہیں تاہم پارٹی قیادت نے ابھی اس بارے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، ایوانِ نمائندگان میں مواخذے کے لیے سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے لیکن صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں دو تہائی اکثریت ضروری ہے جو ڈیموکریٹس کے لیے حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
سینیٹ میں اکثریت کے فوائد
سینیٹ کا کنٹرول حاصل ہونے سے ڈیموکریٹس کو یہ اختیار بھی مل جائے گا کہ وہ صدر ٹرمپ کی جانب سے بھیجی جانے والی ججز اور کابینہ کے ارکان کی نامزدگیوں کو منظور ہونے سے روک سکیں، اس میں سپریم کورٹ کی کسی خالی نشست کے لیے کسی جج کی نامزدگی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:گیس فراہمی کے اوقات کار تبدیل،گھریلو صارفین کیلئے اہم خبر آ گئی
ڈیموکریٹک سینیٹرز کی سربراہی میں قائم کمیٹیاں یہ بھی طے کریں گی کہ کن بلوں اور تحقیقات کو ترجیح دی جائے۔
اختیارات اور مفاہمت
تجزیے کے مطابق تحقیقات کا آغاز کرنا نسبتاً آسان ہوگا لیکن نئے قوانین منظور کرانا مشکل رہے گا، سینیٹ میں بیشتر قانون سازی کے لیے طریقہ کار کی رکاوٹ دور کرنے کی خاطر 60 ووٹ درکار ہوتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کانگریس سے منظور ہونے والے بلوں کو ویٹو بھی کر سکتے ہیں،ان کے ویٹو کو ختم کرنے کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت ضروری ہوگی۔
امیگریشن، تجارت اور فوجی کارروائیوں سے متعلق اہم انتظامی اختیارات بھی صدر کے پاس رہیں گے تاہم کانگریس قانون سازی اور سرکاری اخراجات کے فیصلوں کے ذریعے ان اختیارات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر سکتی ہے۔
انتخابات میں شکست کے بعد صدر ٹرمپ نے مفاہمت کا اشارہ دیتے ہوئے ڈیموکریٹس کی کامیابی کو سراہا ہے، نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ نتائج تسلیم کریں گے اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کی توقع رکھتے ہیں، انہوں نے امیگریشن کے معاملے پر تعاون کا امکان بھی ظاہر کیا۔
تاہم اس سے پہلے ٹرمپ خبردار کر چکے تھے کہ اگر ڈیموکریٹس نے کانگریس میں کامیابی حاصل کی تو وہ ہر چیز ویٹو کر دیں گے، اس صورتحال میں کانگریس اور وائٹ ہاؤس کے درمیان آئندہ 2 سال محاذ آرائی اور مفاہمت دونوں کے امتزاج کا امکان موجود رہ سکتا ہے۔

