کینبرا: امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈٹ نے منگل کو آسٹریلیا کی ہائی کورٹ میں ۱۶ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی کو "ناقص طریقہ کار پر مبنی اور غیر مؤثر” قرار دیا۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ یہ پابندی سیاسی مباحثوں میں نوجوانوں کی شرکت کو محدود کرتی ہے۔
اے بی سی نیوز کے مطابق عدالت نے ریڈٹ اور وکالتی گروپ ڈیجیٹل فریڈم پروجیکٹ کے آئینی چیلنجوں پر دو روزہ سماعت شروع کی۔ ریڈٹ کے وکلاء نے دلیل دی کہ ۲۰۲۴ میں پارلیمنٹ سے جلد بازی میں منظور کیے گئے قانون نے سیاسی مواصلات پر وسیع پابندیاں لگا دی ہیں۔
کمپنی کے مطابق نوعمر اب بھی مواد دیکھ سکتے ہیں، مگر رجسٹرڈ اکاؤنٹ کے بغیر پوسٹ کرنے، تبصرہ کرنے یا بحث میں حصہ لینے سے قاصر ہیں۔ ریڈٹ نے قانون کے تحت خود کو عمر کی پابندی والا سوشل میڈیا پلیٹ فارم قرار دیے جانے کو بھی چیلنج کیا ہے۔
دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ بچوں کو نقصان دہ مواد اور سوشل میڈیا کی ممکنہ طور پر نشہ آور خصوصیات سے بچانے کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں۔
دسمبر ۲۰۲۵ میں نافذ ہونے والی اس پابندی کے تحت فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور ریڈٹ سمیت ۱۰ بڑے پلیٹ فارمز کو ۱۶ سال سے کم عمر بچوں کے اکاؤنٹس روکنے ہوں گے۔ اے بی سی نیوز کے مطابق اب تک تقریباً ۵۰ لاکھ اکاؤنٹس بلاک یا غیر فعال کیے جا چکے ہیں۔
قانونی چیلنج کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ آیا یہ پابندی آسٹریلیا کے آئین میں مضمر سیاسی مواصلات کی آزادی کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ سماعت بدھ کو ختم ہونے کی توقع ہے۔

