سندھ کے وزیر کھیل محمد بخش خان مہر نے ایک مرتبہ پھرپی سی بی کو سخت تنقید کا نشانہ بنا ڈالا، کہتے ہیں کہ سندھ کا اپنا کرکٹ بورڈ بنانے کے لیے قانون سازی کی جائے۔
سکھر میں سندھ اسپیشل گیمز 2026 کی افتتاحی تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے محمد بخش خان مہر نے کہا کہ کرکٹ کا پورا نظام ایسے شخص کے ہاتھ میں ہونا چاہیے جسے کرکٹ کی سمجھ ہو، اور وہ نوجوان کھلاڑیوں کو مناسب پلیٹ فارم فراہم کرنے پر یقین رکھتا ہو،یکساں بنیاد پر تمام صوبوں کو مواقع فراہم کیے جائیں۔
محمد بخش خان مہر نے کہا کہ پی سی بی کے چئیرمین محسن نقوی سے متعدد مرتبہ گفتگو میں کہا کہ سندھ کے نوجوانوں کو کب تک آگے بڑھنے سے روکیں گے، انہوں نے پی سی بی پر برستے ہوئے الزام عائد کیا کہ کارکردگی نہ دکھانے والے کھلاڑیوں کو راتوں رات آگے لایا جاتا ہے جبکہ بہتر کارکردگی دکھانے والے کرکٹرز راتوں رات ٹیم سے باہر کر دیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے نوجوان فاسٹ بولر شاہ نواز دھانی کی حالیہ کارکردگی کے بارے میں علم نہیں، کھلاڑی کارکردگی کی بنیاد پرآگے آتے ہیں، سندھ کے نوجوانوں میں کرکٹ کا بہترین ٹیلنٹ موجود ہے، نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں آزمانے کا موقع دیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کے ساتھ صوبے میں ریجن کی سطح پر بہت اقدامات کی ضرورت ہے، سندھ کے حق کے لیے آواز بلند کی جاتی رہے گی۔
Source link

