عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 4.7 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی اور برینٹ خام تیل کی قیمت اکتوبر کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بدھ کو برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 4.7 فیصد کمی کے بعد 98.76 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔ یہ قیمت 1605 جی ایم ٹی کے قریب ریکارڈ کی گئی۔
اسی طرح عالمی معیار کا امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں بھی 4.5 فیصد کمی ہوئی اور اس کے مستقبل کے سودے 91.73 ڈالر فی بیرل میں طے پائے۔
تیل کی قیمتوں میں اس نمایاں کمی کا تعلق امریکی وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ری پبلکنز کی بھاری شکست سے جوڑا جا رہا ہے۔
امریکا میں وسط مدت انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔
انتخابی نتائج کے بعد سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ امریکی حکومت کی ایران سے متعلق پالیسی میں تبدیلی آسکتی ہے اور خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کو تقویت مل سکتی ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے جس سے خام تیل کی دنیا بھر میں ترسیل میں شدید کمی واقع ہوئی ہے اور پیٹرول کی قیمتیں آسمان سے بات کرنے لگی ہیں۔

