وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بدھ کو کہا ہے کہ حکومت نے اسلام آباد کے متنازع ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو منصوبے کا قانونی طور پر قبضہ حاصل کر لیا ہے اور آئندہ چند ماہ میں اس عمارت کو فائیو سٹار ہوٹل میں تبدیل کر دیا جائے گا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کا قانونی قبضہ حکومت کے پاس آ چکا ہے اور کوشش ہو گی کہ جلد از جلد اس عمارت کو ہوٹل میں تبدیل کر دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے وعدے کے مطابق ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کروائیں۔
جس دن حکومت عمارت کا قبضہ لینے جا رہی تھی، اسی روز بتایا گیا کہ اس معاملے میں حکومت سے غلطی ہوئی ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے متاثرین کو ان کی سرمایہ کاری کے مطابق رقم ادا کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے کسی ملٹی نیشنل کمپنی سے جائیداد کی مالیت کا تخمینہ لگوانے کا ارادہ ہے۔
رواں سال مئی میں ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کو خالی کروانے کی کارروائی اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد کی گئی، جس میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے اقدام کو برقرار رکھا گیا۔
سی ڈی اے نے اس عمارت کی لیز منسوخ کر دی تھی، جسے عدالت نے درست قرار دیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق لیز منسوخی کی بنیادی وجہ اربوں روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی تھی۔
یہ منصوبہ تقریباً دو دہائیاں قبل ایک نجی گروپ کو دیا گیا تھا۔ اس جگہ پر اصل معاہدے کے تحت فائیو سٹار ہوٹل تعمیر ہونا تھا۔
تاہم بعد ازاں منصوبے میں تبدیلی کر کے یہاں رہائشی اپارٹمنٹس اور کمرشل یونٹس قائم کیے گئے، جسے حکام نے اصل معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔
سی ڈی اے کے مطابق چونکہ اس مقام پر فائیو سٹار ہوٹل تعمیر نہیں کیا گیا، اس لیے اہم سرکاری دوروں، بین الاقوامی وفود اور سفارتی تقریبات کے دوران انتظامی اور لاجسٹک مشکلات پیش آتی رہیں۔
ادارے کا کہنا تھا کہ ریڈ زون میں واقع اس مقام کا اصل مقصد اہم ریاستی اور سفارتی ضروریات پوری کرنا تھا، جو تبدیل شدہ منصوبے کے باعث ممکن نہ ہو سکا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو اسلام آباد کے اہم ترین مقامات میں شمار ہوتی ہے اور عدالت کے فیصلے کے بعد عمارت خالی کروانے کا عمل شروع ہو چکا ہے، جبکہ یہ واضح نہیں کہ یہاں موجود رہائشیوں اور کمرشل یونٹس کے مالکان یا کرایہ داروں کے لیے آئندہ کیا انتظامات کیے جائیں گے۔
بدھ کی پریس کانفرنس میں محسن نقوی نے اسلام آباد میں تمام تجاوزات ختم کروانے کا وعدہ بھی کیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ شہر میں کئی مقامات پر پارکنگ کی سہولت موجود نہیں، تاہم ایک پارکنگ پلازے کا جلد افتتاح کیا جائے گا اور مزید پارکنگ پلازے بھی تعمیر کیے جائیں گے۔
محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد کی گرین بیلٹس پر تھانے یا دیگر عمارتیں تعمیر کر کے قبضے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ سرکاری زمین پر قائم کسی بھی عمارت یا کوارٹر کو خالی کروایا جائے گا اور اس معاملے میں کسی کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ جہاں سفاری پارک بنایا جائے گا، وہاں بھی بہت سی زمین واگزار کروائی جائے گی۔ اس کارروائی میں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ زمین کس کی ہے یا اس پر کس کا قبضہ ہے۔
ایک سوال کے جواب میں محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف بھی کارروائیاں کی جائیں گی۔
وفاقی دارالحکومت میں تجاوزات کے پھیلاؤ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ایف سکس، ایف سیون، ایف ایٹ اور ایف ٹین سمیت مختلف سیکٹرز کے رہائشیوں پر زور دیا کہ جنہوں نے اپنی املاک کی مقررہ حدود سے باہر لان پھیلا رکھے ہیں، وہ انہیں واپس اپنی حدود تک محدود کریں۔
ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کی دوبارہ نیلامی کی سفارش
دوسری جانب وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا کہ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کی دوبارہ نیلامی کی سفارش کی گئی ہے اور وفاقی کابینہ نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کی منظوری دے دی ہے۔
اسلام آباد میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ آج کابینہ میں پیش کی گئی۔
ان کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ منصوبے کی تعمیر کے لیے ڈیویلپر کمپنی کو فائدہ پہنچانے کی خاطر قواعد میں نرمی کی گئی۔ اس کے نتیجے میں قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔
احسن اقبال نے کہا کہ رپورٹ میں منصوبے کی شفاف انداز میں دوبارہ نیلامی کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ جعل سازی سے حاصل کیے گئے نام کو تبدیل کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ وزیراعظم نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو میں مبینہ فراڈ کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ رپورٹ میں منصوبے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی اور جن لوگوں کی جمع پونجی ہتھیائی گئی، انہیں رقم واپس کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد کو ان کی رقم واپس کی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ عبدالحفیظ شیخ کی کمپنی کو بلیک لسٹ قرار دیا گیا ہے۔
احسن اقبال کے مطابق جے آئی ٹی نے بہت اچھا کام کیا ہے اور نیب کو بھی مزید تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔ ایک ہی شہر میں امیر اور غریب کے لیے الگ الگ اصول نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں جرائم کی تفصیلات واضح طور پر بیان کی گئی ہیں اور جے آئی ٹی کے کام کو سراہا گیا ہے۔ اب نیب بھی میرٹ پر تحقیقات کرے گا۔

