سوموارکو حیدرآباد میں ’لوک تنتر بچاؤ‘ ریلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ۔تصویر بہ شکریہ: ایکس/ امت شاہ آفس
اپوزیشن نے جمہوریت کے تحفظ کا جھنڈا اٹھایا ہے، اسی لیے تو امت شاہ صاحب کی پارٹی کو بھی جمہوریت کے تحفظ کا خیال آیا ہے۔ جنتر منتر سے لے کر کناٹ پلیس تک جین-زی نےپٹتے پٹاتے اور جیل کی جانب مارچ کرتے ہوئے کندھے پر ترنگا لہرایا، اسی لیے تو شاید شاہ صاحب کو بھی پہلی بار ترنگا کندھے پر اٹھا کر پاؤں -پاؤں چل کر دکھانا پڑ رہا ہے۔
بھائی! مودی جی کے مخالفین اس حد تک چلے جائیں گے، یہ تو کسی نے نہیں سوچا تھا۔ دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک کے وزیر داخلہ، ایک سو چالیس کروڑ ہندوستانیوں کے چنے ہوئے پی ایم کے سب سے زیادہ بھروسے مند، ملک کے غیر اعلانیہ نمبرٹو، شاہ صاحب سڑکوں پر پیدل چل رہے ہیں، اور وہ بھی حیدرآباد کی اوبڑ کھابڑ سڑکوں پر۔ اور اس پر شرمندہ ہونے کے بجائے، اس کے لیےصرف شاہ صاحب سے ہی نہیں ملک بھر سےبلکہ دنیا بھر سے معافی مانگنے کے بجائے اپوزیشن والے ان کے پیدل چلنے کا ہی مذاق اڑا رہے ہیں۔
اب ان مودی مخالفین سے اس پر ایمانداری سے غور و فکر کرنے کی امید تو کوئی نہیں کرتا کہ آخر وویکانند 2.0 کے امریکہ میں دیے گئے خطبات کے اعلانات کے مطابق جس ہندوستان کی تقدیر بھٹکی ہوئی دنیا کو راستہ دکھانے کی ہے، اس ملک کے نمبر ٹو کو مہنگی سے مہنگی گاڑیوں کا اپنا لمبا قافلہ چھوڑ کر، سڑک پر کیوں اترنا پڑا ہے، سڑکوں کی خاک کیوں چھاننی پڑ رہی ہے!
پھر بھی مخالفین کم از کم شائستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاہ صاحب کی صحت کے بارے میں تشویش تو ظاہر کر ہی سکتے تھے۔ ایک فون کرکے رسمی طور پر اتنا تو پوچھ ہی سکتے تھے کہ سب ٹھیک تو ہے!
لیکن چانکیہ 2.0 کی صحت کی فکر کرنا تو دور، مخالفین تو شاہ صاحب کے پیدل چلنے کا ہی مذاق اڑا رہے ہیں۔ کوئی ان کی چال کو لڑھکتے پڑھکتےنظر آنا بتا رہا ہے، تو کوئی ان کےترنگا لے کر جلوس میں آگے آگے چلنے کے پورے منظر کو ہی، اس لیے بھی انٹرٹیننگ بتا رہا ہے کہ جلوس میں ان کے پاس اکلوتا ترنگا تھا، باقی اور چھور تک ان کی پارٹی کے دو رنگےتھے۔
کسی کسی نے تو شاہ صاحب کی اس پدیاترا کو ایک مکمل تفریحی ساؤتھ انڈین فلم ہی بتا دیا ہے۔ اور یہ تب ہے جبکہ شاہ صاحب کو اس طرح پیدل پیدل بھٹکنے کے لیے، اپوزیشن والے ہی ذمہ دار ہیں۔ اگر اپوزیشن والے ووٹ چوری، ووٹ چوری کا شور نہیں مچاتے، استعفیٰ کے لیے گیانیش کمار کے پیچھے نہیں پڑ جاتے، جمہوریت بچانے کے نعرے بلند نہیں کرنے لگتے یا کم از کم رام لیلا میدان میں اتنی بڑی ریلی نہیں کرتے، تو کیا شاہ صاحب کو پاگل کتے نے کاٹا تھا کہ جو حیدرآباد سے پدیاتراؤں کا سلسلہ شروع کرتے!
اپوزیشن والوں نے جمہوریت کے تحفظ کا جھنڈا اٹھایا ہے، اسی لیے تو امت شاہ صاحب کی پارٹی کو بھی جمہوریت کے تحفظ کا خیال آیا ہے ۔ جنتر منتر سے لے کر کناٹ پلیس تک، جین-زی نے پٹتے پٹاتے اور جیل کی جانب مارچ کرتے ہوئے کندھے پر ترنگا لہرایا ہے، اسی لیے تو شاید شاہ صاحب نے بھی پہلی بار ترنگا کندھے پر اٹھا کر پاؤں -پاؤں چل کر دکھایا ہے۔
شاطر اپوزیشن والےاس میں بھی شاہ جی کے ساتھ چیٹنگ کر گئے۔ جنتر منتر پر، کناٹ پلیس میں اور راجدھانی کی باقی سڑکوں پر، ترنگا لہرانے کے لیے شاہ جی کی سرکاری پولیس سے لے کر بھاگوت جی کے پرائیویٹ لٹھیتوں تک سے جو بھڑے، پٹے وہ کون تھے؟ زیادہ تر جین-زی تھے، نوجوان تھے۔ ان کے جواب میں ترنگا اٹھا کر پاؤں پاؤں چلنا پڑ رہا ہے ایک سینئر شہری کو، باسٹھ سالہ شاہ جی کو۔ یہ برابری کا مقابلہ تو نہیں ہے بھائی!
اب پلیز کوئی یہ کہنے مت لگنا کہ شاہ جی کو اگراپنے موٹا بھائی کے راج کے بارہ سال بعد، پاؤں پاؤں چل کر سڑکوں کی خاک چھاننی پڑ رہی ہے، تو اس کے لیے بھی چھوٹا بھائی اور موٹا بھائی ہی ذمہ دار ہیں۔ اگر دونوں مل کر قانون میں تبدیلی کرکے الیکشن کمیشن کو اپنےپیادوں کے حوالے نہ کرتے، تو نہ ہر انتخاب میں دھاندلی کا شور مچتا اور نہ ووٹ چوری کی نوبت آتی۔ جب انتخابات میں دھاندلی اور ووٹ چوری ہوتی ہی نہیں، تو پھر اپوزیشن کو جمہوریت بچانے کے لیے سڑکوں پر اترنے کی کیا ضرورت تھی؟
اس سے پہلے تو کبھی اپوزیشن الیکشن کمیشن سے جمہوریت بچانے کے لیے سڑکوں پر نہیں اتری۔ اور اگر اپوزیشن جمہوریت بچانے کے لیے سڑکوں پر نہ اترتی، تو شاہ صاحب کو بھی سڑکوں پر دھکے کھانے کی کیا ضرورت تھی؟ اتنے برسوں میں تو چھوٹا بھائی کو اپنے پاؤں سڑک پر رکھتے کبھی کسی نے نہیں دیکھا۔ گیانیش کمار کو بچانا ہے، اسی لیے بیچارے کو بڑھاپے میں سڑکوں کی خاک چھاننی پڑ رہی ہے۔ اسے بھی نہیں بچائیں گے تو گدی کیسے بچائیں گے؟ نہ جانے کہاں کہاں کی خاک چھاننی پڑے گی!
اور جو لوگ مودی جی -شاہ جی کی پارٹی کے جمہوریت بچانے کے لیے جلوس وغیرہ نکالنے کے آئیڈیا پر ہی ہنس رہے ہیں، ان کے بارے میں ہمارا منہ ہی نہ کھلوایا جائے تو بہتر ہے۔ یہ اگر ڈیموکریسی کے مخالف نہ بھی ہوں تو بھی،ڈیموکریسی کے بارے میں ناخواندہ ضرور ہیں۔ ورنہ سبھی جانتے ہیں کہ ڈیموکریسی، برابری کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ اپوزیشن والے ڈیموکریسی بچانے کے لیے جلوس نکالیں، جلسے کریں، تقریریں کریں، جیل ویل جانے پر آمادہ ہو جائیں، تو یہ ان کا جمہوری حق ہے۔
لیکن جو لوگ اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہیں، وہ جمہوریت بچانے کے لیے جلوس نکالیں، جلسے کریں، تو سب ایسے منہ بچکائیں جیسے ان سے کوئی بہت بڑی غلطی ہوگئی ہو۔ یہ کہاں کی ڈیموکریسی ہے؟ امبیڈکر جی کے آئین میں کیا کہیں بھی لکھا ہے کہ ڈیموکریسی کو صرف اپوزیشن والے ہی بچائیں گے؟ اقتدار میں بیٹھنے والوں کو جمہوریت بچانے کا کوئی حق ہی نہیں ہے؟ مخالفین کچھ بھی کہیں، شاہ جی جمہوریت بچانے کے اپنے اور اپنی جوڑی کے حق کو کسی کو چھیننے نہیں دیں گے۔ ضرورت پڑی تو ڈانڈی مارچ 2.0 نکالنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آخر وہ بھی گجراتی ہیں۔
ہم اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ راج، موٹا بھائی -چھوٹا بھائی کا ہے۔ گیانو ان کی جیب میں ہے- میڈیا ان کی گود میں ہے، دونوں ان کے دو بازو ہیں۔ انصاف کی دیوی کی آنکھوں سے جب پٹی ہٹائی گئی ہے، وہ راج محل کے اشارے دیکھ دیکھ کر فیصلے سناتی ہے۔ مانا کہ سب کچھ انہی کے ہاتھ میں ہے، پھر بھی جمہوریت بچانے کا ان کا حق تو کوئی نہیں چھین سکتا۔
بے شک یہ سوال بھی اپنی جگہ درست ہے کہ جب سب کچھ انہی کے ہاتھ میں ہے، تو جمہوریت کو کس سے بچائیں گے؟ لیکن جمہوریت بچانے کے لیے انہیں کسی دوسرے کی جمہوریت کو خطرے میں ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ خود خطرہ پیدا کریں گے، تب بھی جمہوریت وہی بچائیں گے۔ اس معاملے میں بھی وہ پوری طرح آتم نربھر ہیں۔
پھر بھی اگر جمہوریت کو کسی دوسرے ہی سے بچانا ضروری ہو، تو چھوٹا بھائی- موٹا بھائی کے پاس اس کا بھی انتظام ہے۔ اور کوئی نہ ملا تو عوام ہی سے جمہوریت کو بچائیں گے، لیکن بچائیں گے ضرور۔ بلکہ اسی انتظام کے چکر میں تو شاہ صاحب کو سڑکوں پر بھٹکنا پڑ رہا ہے۔
(راجیندر شرما لوک لہر ہفتہ وار کے مدیر ہیں۔)

