اسرائیلی الیکشن میں ناکامی؛شاس پارٹی کے چئیرمین نے پارلیمنٹ کی رکنیت چھوڑ دی

news 1794153058 1263



news 1794153058 1263

(ویب ڈیسک) اسرائیل کی حکومت میں نیتن یاہو کی اتحادی شاس (Shas) پارٹی کے چیئرمین آریا دیری نے  کنیست کے لیے پارٹی کے ارکان  کی فہرست سے اپنا نام واپس لے لیا ہے اور وہ آئندہ 26ویں کنیست میں قانون ساز (رکن پارلیمنٹ) کے طور پر خدمات انجام نہیں دیں گے۔

عبرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، شاس پارٹی کے چیئرمین آریا دیری نے کنیسٹ کے لیے پارٹی کی امیدواروں کی فہرست سے اپنا نام واپس لے لیا ہے اور وہ آئندہ 26ویں کنیسٹ میں قانون ساز (رکن پارلیمنٹ) کے طور پر خدمات انجام نہیں دیں گے۔

آریا دیری کا یہ فیصلہ 27 اکتوبر کے انتخابات میں شاس کی انتہائی خراب کارکردگی کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔ ان انتخابات میں ’الٹرا آرتھوڈوکس‘ (انتہائی مذہبی) دھڑے کی نشستیں 11 سے کم ہو کر صرف 6 رہ گئیں، جو گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے میں ان کا بدترین انتخابی نتیجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  اسرائیل میں نیتن یاہو کی حکومت عربوں کو مین سٹریم میں جگہ ملنے کب تک برقرار رہے گی 

تاہم، پارٹی کی ’کونسل آف توراہ سیجز‘ (مذہبی علماء کی کونسل) نے ان کا پارٹی کی قیادت سے استعفیٰ مسترد کر دیا اور اصرار کیا کہ وہ پارٹی کی قیادت سنبھالے رکھیں، تاکہ ’حریدی‘ (انتہائی مذہبی) طبقے کے ’یشیوا‘ (مذہبی مدرسوں) کے سٹوڈنٹس کو فوجی خدمات سے استثنیٰ دلانے کی کوششوں کی رہنمائی کر سکیں۔ اب اطلاعات کے مطابق، آریا دیری کنیست کا رکن بنے بغیر  شاس پارٹی کی قیادت جاری رکھیں گے۔

پارٹی کی فہرست میں چھٹے اور ساتویں نمبر پر موجود ڈرور آموس اور رکن کنیست موشے ابوتبول نے بھی اپنے نام واپس لے لیے ہیں۔ اس اقدام سے آٹھویں اور نویں نمبر پر موجود اراکین کنیست، یوریل بوسو اور یوسی طیب کے لیے پارلیمنٹ میں داخلے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ