’جیسے جی ایم سید بول رہے ہوں‘
کراچی کی حبس زدہ ہوائیں جب لیاری کی تنگ گلیوں، بوسیدہ عمارتوں اور کھڈہ مارکیٹ کی پرانی دیواروں سے ٹکراتی ہوئی گزرتی ہیں تو اپنے ساتھ صرف بیتے ہوئے قصوں کی صدا نہیں سناتیں بلکہ تاریخ کے وہ ابواب بھی واضح کر دیتی ہیں جو وقت کی گرد میں کہیں دب گئے ہیں۔ ان ابواب میں فکر کا تصادم بھی ہے،…

