جکارتہ — انڈونیشیا نے مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ "گروک” پر باقاعدہ پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ اقدام اس وجہ سے اٹھایا گیا ہے کہ اس پلیٹ فارم پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے فحش مواد آسانی سے تیار کیا جا سکتا ہے۔
گروک کو دنیا بھر میں شدید تنقید کا سامنا ہے کیونکہ اس کے ذریعے صارفین مصنوعی ذہانت کی مدد سے فحش تصاویر اور دیگر نامناسب مواد باآسانی بنا سکتے ہیں۔ انڈونیشیا کی حکومت نے اخلاقی اور سماجی اقدار کے تحفظ کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے۔
انڈونیشیا کی جانب سے یہ پابندی دنیا کے مختلف ممالک میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کے خلاف بڑھتے ہوئے خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی ٹولز کی نگرانی اور ضابطہ کاری کی اشد ضرورت ہے تاکہ ان کا غیر اخلاقی مقاصد کے لیے استعمال روکا جا سکے

