اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی: ماحولیاتی بحران کی ایک تصویر

images 12 2

تحریر و اہتمام محمد سلیم

اسلام آباد، جسے کبھی دنیا کے خوبصورت ترین دارالحکومتوں میں شمار کیا جاتا تھا، آج درختوں کی بے دریغ کٹائی کا شکار ہے۔ یہ صرف شہر کی خوبصورتی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین ماحولیاتی بحران ہے جو ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل سے کھلواڑ ہے۔پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک میں عالمی سطح پر ٹاپ 10 میں شامل ہے۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے اس حقیقت کو واضح کر دیا کہ ہم ماحولیاتی تبدیلیوں کے سامنے کتنے کمزور ہیں۔ یہ المیہ ہے کہ ایک طرف تو ہم موسمیاتی تبدیلی کے خطرناک اثرات کا سامنا کر رہے ہیں اور دوسری طرف خود اپنے ہاتھوں سے قدرتی دفاع کو تباہ کر رہے ہیں۔یاد ہے وہ دن جب مارگلہ روڈ پر سایہ دار درختوں کی قطاریں گاڑیوں کو قدرتی سایہ فراہم کرتی تھیں؟ اس روٹ پر سفر کرنا ایک خوشگوار تجربہ تھا۔ آج وہی روٹ چلچلاتی دھوپ میں تپتا ہوا صحرا لگتا ہے۔ سڑک کی چوڑائی کے نام پر سیکڑوں 50-60 سالہ پرانے درخت کاٹ دیے گئے۔ ایک بزرگ ٹیکسی ڈرائیور نے بتایا، "پہلے یہ سفر کتنا پرسکون تھا، درختوں کی ٹھنڈی ہوا چلتی تھی۔ اب تو AC بند کر کے گاڑی چلانا ممکن نہیں۔”

فیصل مسجد کے قرب و جوار میں ایک وقت میں گھنے جنگلات تھے جہاں خاندان پکنک منانے جاتے تھے۔ 2018 سے 2023 کے درمیان تعمیراتی منصوبوں کے لیے اس علاقے کے ہزاروں درخت کاٹ دیے گئے۔ ایک مقامی استاد نے اپنا تجربہ بیان کیا، "میں اپنے بچوں کو یہاں لے کر آتا تھا۔ درختوں کے سائے میں بیٹھ کر ہم گھنٹوں وقت گزارتے تھے۔ آج وہاں کی گرمی میں 4-5 ڈگری کا فرق محسوس ہوتا ہے۔ اب پندرہ منٹ سے زیادہ ٹھہرنا مشکل ہے۔”

ماہرین کے مطابق اسلام آباد میں 2015 سے اب تک تقریباً 50,000 درخت مختلف منصوبوں کی نذر ہوئے ہیں۔ ایک بڑا درخت روزانہ چار افراد کے لیے آکسیجن فراہم کرتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ 2 لاکھ افراد کے لیے روزانہ آکسیجن کی کمی۔ بلیو ایریا میں 2019 میں بڑے پیمانے پر درخت کاٹے گئے، جس کے بعد ایک مقامی ڈاکٹر نے بتایا کہ سانس کی بیماریوں کے مریضوں میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

پمز ہسپتال کے ایک سینئر ڈاکٹر نے اپنے 20 سالہ تجربے میں بتایا، "جب میں نے 2005 میں یہاں کام شروع کیا تھا، اسلام آباد کی ہوا صاف تھی۔ آج میرے مریضوں کی اکثریت ماحولیاتی آلودگی سے متعلق بیماریوں کی شکار ہے۔ دمہ، الرجی اور جلد کی بیماریوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔”F-7 سیکٹر جہاں ابھی بھی درخت موجود ہیں اور I-10 جہاں حالیہ تعمیرات کے لیے زیادہ تر درخت کاٹ دیے گئے، ان کا فرق واضح ہے۔ گرمیوں میں F-7 میں درجہ حرارت 38 ڈگری رہتا ہے جبکہ I-10 میں 42-43 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، یہ لوگوں کی روزمرہ زندگی پر اثرانداز ہونے والی حقیقت ہے۔

مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں ایک پرندوں کے محب نے 2010 میں 40 مختلف اقسام کے پرندے گنے تھے، لیکن 2024 میں صرف 15 اقسام باقی ہیں۔ طوطے، ہدہد اور دیگر خوبصورت پرندے جو اسلام آباد کی پہچان تھے، اب نایاب ہو گئے ہیں۔ صبح کی میٹھی چہچہاہٹ جو کبھی شہر کو جگاتی تھی، اب محض یادوں میں ہے۔

2023 کی بارشوں میں اسلام آباد کے کئی علاقے سیلاب زدہ ہوئے جہاں پہلے کبھی پانی جمع نہیں ہوتا تھا۔ وجہ واضح تھی، درختوں کی جڑیں جو پانی جذب کرتی تھیں، اب موجود نہیں تھیں۔ E-11 میں ایک رہائشی نے بتایا، "2020 سے پہلے ہمارے علاقے میں بارش کا پانی جلدی جذب ہو جاتا تھا، لیکن اب گھنٹوں تک کھڑا رہتا ہے۔ ہمارا تہہ خانہ دو بار پانی سے بھر چکا ہے۔”

حکومت کو ترقیاتی منصوبوں اور ماحولیاتی تحفظ میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔ سنگاپور اور کوالالمپور نے ثابت کیا ہے کہ ترقی اور سبزہ ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ ہمیں بھی یہ راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ وقت ابھی بھی ہاتھ سے نہیں گیا، لیکن اگر ہم نے اب بھی نہ سنبھلے تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے بچے کتابوں میں سبز اسلام آباد کی تصویریں دیکھ کر حیران ہوں گے کہ کبھی ہمارا دارالحکومت بھی اتنا خوبصورت تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان سے نظریں ملا پائیں گے؟

متعلقہ پوسٹ