ججز کے خلاف سوشل میڈیا مہم: لاہور ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے کو فہرست مرتب کرنے کا حکم

IMG 20260113 WA1960


لاہور ہائیکورٹ نے ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی غیر مناسب اور منظم مہم کا سخت نوٹس لیتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو ہدایت کی ہے کہ اس مہم میں ملوث افراد کی فہرست مرتب کی جائے، جبکہ وفاقی حکومت کو فوری طور پر ججز کے خلاف قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی ضیا باجوہ نے شہری پرویز الہٰی کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے میاں داؤد ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران وکیلِ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ چار ہفتوں سے لاہور ہائیکورٹ کی خواتین ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی اور توہین آمیز پروپیگنڈا جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز نے اس مہم کی مذمت کی، تاہم تاحال کسی ریاستی ادارے نے مؤثر کارروائی نہیں کی۔
عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ آیا این سی سی آئی اے کا ازخود (سوموٹو) کارروائی کا اختیار ختم ہو چکا ہے؟ عدالت نے ریمارکس دیے کہ این سی سی آئی اے کے پاس سائبر پولیسنگ کے مکمل اختیارات موجود ہیں، پھر ادارہ اس معاملے پر خاموش کیوں ہے؟
جسٹس علی ضیا باجوہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معزز ججز کے خلاف اس نوعیت کی مہم ادارہ جاتی حملے کے مترادف ہے اور عدلیہ کو ٹارگٹ کرنا سائبر دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر این سی سی آئی اے قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہا تو یہ بدنیتی کے مترادف ہوگا۔
عدالت نے سوال اٹھایا کہ آیا این سی سی آئی اے نے اب تک کسی کے خلاف انکوائری کا آغاز کیا، کوئی نوٹس جاری کیا یا پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو متنازع مواد ہٹانے کے لیے کوئی ہدایت دی؟
لاہور ہائیکورٹ نے این سی سی آئی اے سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ججز کے خلاف مہم کے پسِ پردہ عناصر کی نشاندہی کی جائے اور قانون کے مطابق فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔

متعلقہ پوسٹ