(احمد منصور) مودی سرکار کشمیریوں کی اسلامی شناخت مٹانے کی مذموم کوششوں سے باز نہیں آئی۔ مقبوضہ کشمیر پر قابض غیر قانونی بھارت سرکار نے کشمیر کی مساجد کو نشانے پر رکھ لیا۔
مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد سروے پر ٹی آر ٹی کی رپورٹ سامنے آ گئی ہے جس کے مطابق بھارتی پولیس نے مساجد کے بارے میں تفصیلات اکٹھی کرنا شروع کر دی ہیں۔
مساجد میں پیش امام کے فرائض انجام دینے والوں اور مساجد کی انتظامی کمیٹیوں کے ارکان کے "آدھار کارڈ” کے نمبر، موبائل فون کے آئی ایم ای آئی نمبر، ان کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات اور ہر شخص کے خاندان کے متعلق معلومات مرتب کی جا رہی ہیں۔ مساجد کے انتظام سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کی سفر کی ہسٹری اکٹھی کی جا رہی ہے، ان کے سوشل میڈیا کے استعمال کی معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔
نریندر مودی کی مرکزی حکومت کا یہ متنازعہ سروے 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی بھارتی آئین میں خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد مقامی سیاسی نگرانی کے بغیر کیا جا رہا ہے۔
اس مشکوک سروے پر کشمیری عوام میں شدید تشویش سامنے آ رہی ہے۔
مودی سرکار کے اس نام نہاد سروے کو مسلم مذہبی اداروں کی”ڈیجیٹل پروفائلنگ” قرار دیا جا رہا ہے.
کسی سرکاری وضاحت کے بغیر اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کے متعلق ایسی کوئی پروفائلنگ نہیں کی گئی۔ مندروں اور دیگر عبادت گاہوں سے منسلک افراد کے ساتھ ایسی جانچ پڑتال نہ ہونے سے نئے خدشات جنم لینے لگے ہیں۔
ٹی آر ٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کسی قانونی اور اخلاقی اختیار کے بغیر قابض نریندر مودی کی مرکزی انتظامیہ کا سروے "معمول کی سکیورٹی” کے بجائے نگرانی اور کنٹرول کے گہرے ایجنڈے کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: ویزا پروسیسنگ کن لوگوں کیلئے معطل ہوئی، کن پر کوئی اثرنہیں ہوگا، امریکی سفارتخانے کا مؤقف سامنےآگیا


