کراچی – پاکستانی سیکیورٹی حکام نے جمعہ کو واضح کیا کہ خیبر پختونخوا کی وادی تیراہ میں کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہو رہا، بلکہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں جاری ہیں۔
کراچی میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ تیراہ میں مختلف دہشت گرد عناصر اور مجرموں کا اتحاد بنا ہوا ہے جس کے خلاف نشانہ بند کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ وادی تیراہ میں دہشت گردوں، "فتنہ ہندوستان” اور "فتنہ خوارج” کا مشترکہ نیٹ ورک فعال ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے ذریعے ان تمام خطرات کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔
"آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی،” سیکیورٹی ذرائع نے کہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان نے ڈرون ٹیکنالوجی میں خود انحصاری حاصل کر لی ہے اور جاری علاقائی تنازعات کے پیش نظر جدید اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی پر بھی کام جاری ہے۔
سیکیورٹی حکام نے تیراہ میں فوجی آپریشن کی خبروں کو "جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈا” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہو چکا ہے۔
ذرائع نے یہ بھی کہا کہ "احساس محرومی کا نعرہ لگا کر دہشت گردی کرنے والوں کو بلوچستان کی عوام پہچان چکی ہے۔”
پاکستان حالیہ مہینوں میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کا سامنا کر رہا ہے۔

