آکسیوس: امریکہ نے ایران کی جمعہ کے مذاکرات کے مقام اور فارمیٹ میں تبدیلی کی درخواست مسترد کر دی

IMG 20260204 WA2617


واشنگٹن / تہران، 4 فروری 2026 — معتبر امریکی نیوز ویب سائٹ آکسیوس کے مطابق، امریکہ نے ایران کی جانب سے جمعہ کو متوقع ہونے والے مذاکرات کے مقام اور طریقہ کار (فارمیٹ) میں تبدیلی کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔
آکسیوس نے دو امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ واشنگٹن نے تہران کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ استنبول میں طے شدہ اصل جگہ اور کثیر الجہتی فارمیٹ (جس میں کئی عرب اور مسلم ممالک کے نمائندے مبصر کے طور پر شریک ہونے والے تھے) سے کسی قسم کی تبدیلی قبول نہیں کریں گے۔
مذاکرات کا اصل منصوبہ: جمعہ کو ترکی کے شہر استنبول میں امریکی نمائندے سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ملاقات ہونی تھی، جس میں سعودی عرب، قطر، مصر اور عمان سمیت علاقائی ممالک کے نمائندے مبصر کے طور پر موجود ہونے والے تھے۔
ایران کی درخواست: منگل کو ایران نے مطالبہ کیا کہ مذاکرات کو عمان منتقل کیا جائے اور یہ صرف دو طرفہ (امریکہ اور ایران) ہوں، نہ کہ کثیر الجہتی، تاکہ بات چیت صرف نیوکلیئر پروگرام تک محدود رہے اور میزائل پروگرام، علاقائی پراکسی گروپس جیسے دیگر موضوعات شامل نہ ہوں۔
امریکہ کا ردعمل: امریکی حکام نے درخواست پر غور کیا، لیکن بدھ کو اسے مسترد کر دیا۔ ایک سینیئر امریکی اہلکار نے آکسیوس کو بتایا: "ہم نے انہیں کہا کہ یہ صورتحال ہے یا کچھ نہیں — اور انہوں نے ‘ٹھیک ہے، تو پھر کچھ نہیں’ کہہ دیا۔”
آکسیوس کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، اس مستردی کے نتیجے میں جمعہ کو طے شدہ مذاکرات منسوخ ہو چکے ہیں یا شدید خطرے میں ہیں۔ تاہم، ایک امریکی اہلکار نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران اصل فارمیٹ پر واپس آ جائے تو امریکہ اس ہفتے کے آخر یا اگلے ہفتے کے آغاز میں مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
نوٹ: آکسیوس کی رپورٹ میں مذاکرات کی مکمل منسوخی کا براہ راست اعلان نہیں کیا گیا، بلکہ اسے "منسوخ ہونے” یا "کولپس” کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ایک اسرائیلی نیوز سورس نے اسے "منسوخی” قرار دیا تھا، لیکن آکسیوس نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر مذاکرات کے لیے انتہائی نازک مرحلے میں پیش آئی ہے، جبکہ خلیج میں امریکی فوجی تیاریاں عروج پر ہیں۔

متعلقہ پوسٹ