(24نیوز) بھارت میں تین کم سن بہنوں کی خودکشی کا ذمہ دار ایک میوزک ٹرینڈ نکلا۔
میوزک گروپ کے سحر میں جکڑی بچیاں اپنے نویں منزل پر واقع فلیٹ میں اپنے بیڈ روم کے ٹیرس سے کود کر موت کے منہ میں چلی گئیں۔ ان کی موت کا ذمہ دار کوریا کا مشہور میوزک ’کے پاپ‘ نکلا۔
صرف 12سال, 14 سال اور 16 سال کی عمر مین یہ بچیاں تعلیم کی بجائے کے پاپ کی فین بن کر اس میوزک کلچر سے جڑے ہوئے رجحانات کی پیروکار بن چکی تھیں اور اپنی رئیل زندگی سے دور ہو چکی تھیں۔ وہ اس رجحان سے اتنا متاثر تھیں کہ انہوں نے والدین کے رکھے ہوئے نام چھوڑ کر کورین جیسے نام رکھ لئے تھے اور خود کو علیزہ، ماریہ اور سینڈی کہلانا پسند کرتی تھیں۔ ان کی آن لائن کے پوپ کلچر سے ملی مصنوعی زندگی کی ایڈیکشن اتنی شدید ہوئی کہ تینوں کے سکول چھوٹ گئے تھے۔
ماں باپ نے آن لائن سرگرمیوں سے روکا تو انہوں نے کمرے سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔
اس الم ناک صورتحال جیسے واقعات کے بعد آسٹریلیا نے اپنے 16 سال عمر کے بچوں کے سوشل میڈیا میں جانے پر پابندی ہی لگا دی ہے اور سوشل پلیٹ فارمز پر بنے آسٹریلین بچوں کے 35 لاکھ سے زیادہ اکاؤنٹ جبراً بند کروا دیئے ہیں۔
بھارت کے شہر غازی آباد میں تین بہنوں کی خودکشی کے بعد ملنے والے ایک نوٹ نے ثابت کیا ہے کہ وہ "کورین پاپ” کلچر کی جنون کی حد تک ایڈکٹ تھیں، ان بچیوں کے نوٹ میں "گھر والوں کے دباؤ” اور خاندان کی مالی مشکلات کا بھی ذکر ہے۔
تینوں بہنوں کی عمریں 12، 14 اور 16 سال تھیں، جنہوں نے اپنی رہائشی عمارت کی نویں منزل سے کود کر جانیں دیں۔
یہ بھی پڑھیں : بھارت میں تین بہنوں نے عمارت سے کود کر خودکشی کر لی
بچیوں نے آخری نوٹ میں خاندان سے متعدد بار معافی مانگی لیکن یہ لکھا کہ ان کے احساسات اور جذبات کر ٹھیک طرح سے سمجھا نہیں گیا اور وہ ذہنی دباؤ کا شکار تھیں۔
کئی صفحات پر مشتمل نوٹ میں کورین میوزک عرف ’کے-پاپ‘ اور کورین اداکاروں کے لیے شدید نوعیت کی عقیدت کا ذکر تھا۔
نوٹ میں بچیوں نے لکھا تھا کہ ’ہمیں کوریائی پاپ موسیقی سے بے حد محبت تھی، ہمیں افسوس ہے کہ شاید آپ سمجھ نہیں پائے کہ ہمارے لیے یہ کتنا اہم تھا۔ یہ ہماری زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ تھا۔ بعض اوقات لگتا تھا کہ یہ دنیا ہمارے لیے سب کچھ سے زیادہ معنی رکھتی ہے۔‘
نوٹ میں بہنوں نے اپنی کورین کلچر کیلئے پسندیدگی اور کے-پاپ، ڈراماز، اور آن لائن گیمز جیسے ’دی بے بی ان ییلو‘، ’ایول نن‘ اور دیگر کورین، چینی، تھائی اور جاپانی آن لائن شو اور ڈراموں کا ذکر بھی کیا۔
انہوں نے لکھا، ’کوریا ہماری زندگی ہے، آپ نے ہمیں ہماری زندگی چھوڑنے پر مجبور کیا، اب آپ نے اس کا ثبوت دیکھ لیا۔‘
انتہائی کم عمر کی بچیوں نے نوٹ میں یہ بھی لکھا کہ ،’کسی بھارتی سے شادی کرنے کا سوچنا ہمیں ذہنی دباؤ دیتا تھا، کیونکہ ہم اپنے آپ کو کوریا کی دنیا کے قریب محسوس کرتے تھے۔ ہمیں توقع نہیں تھی کہ ہم اپنی زندگی کے بارے میں ایسے جذبات محسوس کریں گے۔ معاف کرنا، پاپا۔‘
اب یہ سامنے آ چکا ہے کہ پڑھنے کی عمر میں یہ بہنیں کئی سال سے سکول نہیں جارہی تھیں، اپنا زیادہ وقت موبائل فونز پر گزارتی تھیں۔ اور والد کی تربیت کو ناپسند کرتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا میں تاریخی کریک ڈاؤن؛ 47 لاکھ سوشل میڈیا اکاؤنٹ بند ہو گئے
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا نے یو ٹیوب پر بھی پابندی لگا دی
ان بچیوں کے سوشل پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ تھے اور ایک نام نہاد سوشل لائف” تھی۔ ان بہنوں نے مل کر ایک سوشل پلیت فارم ایک اکاؤنٹ بھی بنایا تھا، جس پر خاصی تعداد میں فالورز جمع ہوئے اور یہ سوشل فالوور ان کو علیزہ، ماریہ اور سِینڈی کے نام سے جانتے تھے۔
کم عمری میں "سوشل میڈیا انفلوئنسرز” کے ہتھے چڑھ کر کبھی نہ دیکھی ہوئی چیزوں اور باتوں سے متاثر ہو جانے والی ان بچیوں کے والد چیتن کمار کو ان کے سوشل میڈیا والے اکاؤنٹ کا تقریباً دس دن قبل معلوم ہوا، جس کے بعد انہوں نے اسے ڈیلیٹ کر دیا اور بچیوں کے فون ان سے لے لئے۔ والد نے انہیں کہا کہ وہ کورین مواد نہ دیکھیں اور آن لائن گیمز نہ کھیلیں۔ اس وقت سے یہ بچیاں غصے اور ذہنی دباؤ میں تھیں۔
غازی آباد کے ایڈیشنل کمشنر آف پولیس، الوک پریادرش نے کہا، ’یہ بچیاں کے-ڈراماز کے زیرِ اثر تھیں۔ انہوں نے سکول چھوڑ دیا اور اپنا ہر وقت موبائل فون میں صرف کیا۔ منگل کی رات، جب باقی خاندان سو گیا، یہ بچیاں اپنے کمرے میں بند ہو گئیں اور خودکشی کر لی۔‘
والد چیتن کمار نے تصدیق کی کہ ان کی بیٹیاں کے-ڈراماز کی مداح تھیں اور تینوں نے کم از کم تین سال سے سکول جانا بند کر دیا تھا۔ سب سے بڑی بچی گریڈ 7 میں، دیگر دو گریڈ 6 اور گریڈ 5 میں سکول چھوڑ چکی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کی تجویز سامنے آگئی
والد کے مطابق، تین ماہ قبل بچیوں نے یوٹیوب پر چینل بنایا تھا، جسے انہوں نے ڈیلیٹ کر دیا، جس سے بہنیں دل شکستہ ہو گئیں۔
حادثے سے قبل منگل کی رات خاندان نے بھنڈی اور روٹی کا کھانا کھایا، اس کے بعد بچیاں کمرے میں گئیں۔ والد کے مطابق، تھوڑی دیر بعد چیخوں اور گرنے کی آوازیں آئیں، جس کے بعد وہ تینوں بچیاں مردہ حالت میں ملیں۔
اس واقعے کی تحقیقات میں کچھ تنازعات بھی سامنے ہیں۔ ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا کہ دو بہنیں ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کودی تھیں جبکہ تیسری الگ کھڑکی سے نیچے اتری۔
تاہم ایک گواہ نے انڈیا ٹوڈے ٹی وی کو بتایا کہ اس نے دیکھا کہ دو بہنیں کودنے کی کوشش کر رہی تھیں جبکہ تیسری انہیں روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔
نام نہاد سوشل میڈیا، آن لائن اثرات سے پیدا ہوئے اس سادہ المیہ میں اب پولیس کی تحقیقاتیں نت نئی پیچیدگیاں ڈال رہی ہیں۔

