ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران امریکا کا بحیرہ عرب میں فوجی طاقت کا مظاہرہ

IMG 20260208 WA1415


امریکی سینٹرل کمانڈ نے اسے "طاقت کے ذریعے امن” قرار دیا
مسقط/واشنگٹن — 8 فروری 2026
امریکا اور ایران کے درمیان عمان کے دارالحکومت مسقط میں 6 فروری کو غیر مستقیم مذاکرات ہوئے، جو تہران کے جوہری پروگرام، احتجاجی مظاہروں پر کریک ڈاؤن اور علاقائی کشیدگی کے خاتمے پر مرکوز تھے۔ تاہم مذاکرات کے عین دوران امریکا نے بحیرہ عرب میں اپنی فوجی طاقت کا براہ راست مظاہرہ کیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کے ساتھ تعینات جنگی بحری جہازوں اور طیاروں کا گروپ بحیرہ عرب میں سرگرم ہے۔ سینٹ کام نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شائع تصاویر میں طیاروں کی اڑان اور بحری بیڑے کی نقل و حرکت کو "Peace through Strength” (طاقت کے ذریعے امن) کا لیبل دے کر پیش کیا۔
یہ مظاہرہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی وفد میں سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر بھی شامل تھے، جو مذاکرات میں غیر معمولی طور پر شریک ہوئے۔ مذاکرات کے فوراً بعد امریکی نمائندوں سمیت سٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر نے طیارہ بردار جہاز کا دورہ بھی کیا۔
یہ پیش رفت جنوری کے آخر میں شروع ہونے والے امریکی فوجی اضافے کا حصہ ہے، جس میں بحیرہ عرب اور خلیج فارس میں جنگی جہازوں، ایف-35 اور ایف-15 طیاروں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی۔ چند روز قبل امریکی بحریہ نے ایک ایرانی ڈرون کو طیارہ بردار جہاز کے قریب "جارحانہ” انداز میں آنے پر مار گرایا تھا۔
ایران نے اس فوجی مظاہرے کو مذاکرات کے لیے "دباؤ” اور "خطرہ” قرار دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ "فوجی تعیناتی ہمیں نہیں ڈراتی” اور تہران جوہری افزودگی جاری رکھے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ "طاقت کے ذریعے امن” کی حکمت عملی مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ہے، لیکن یہ خطے میں غلط فہمی یا تصادم کا خطرہ بھی بڑھا سکتی ہے۔ دونوں فریقوں نے مزید بات چیت کا عندیہ دیا ہے، تاہم اعتماد کی کمی برقرار ہے۔

متعلقہ پوسٹ