اسلام آباد (9 فروری 2026) — بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کے بینکنگ سیکٹر کے آؤٹ لک کو مثبت سے تبدیل کر کے مستحکم (Stable) کر دیا ہے۔
موڈیز کی تازہ رپورٹ کے مطابق آئندہ 12 سے 18 ماہ کے دوران پاکستانی بینکوں کی کارکردگی مستحکم رہنے کا امکان ہے۔ ایجنسی نے یہ فیصلہ معاشی بحالی کے آہستہ آہستہ جاری رہنے، مالیاتی اور بیرونی پوزیشن میں بہتری اور جاری اصلاحات کی بنیاد پر کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاشی ماحول میں بحالی جاری ہے لیکن یہ آہستہ اور غیر یکساں ہے۔ پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی گروتھ 2026 میں تقریباً 3.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ تاہم، بینکوں کو زیادہ شرح سود، کریڈٹ رسک اور سرکاری مالی مشکلات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
موڈیز نے واضح طور پر حکومتی مالی مشکلات (sovereign fiscal challenges) کو بینکنگ سیکٹر کے لیے سب سے بڑا خطرہ اور چیلنج قرار دیا ہے۔ اس کے باوجود ایجنسی کا خیال ہے کہ بینکوں کی مالی کارکردگی میں بہتری کی بجائے استحکام برقرار رہے گا۔
یہ پیش رفت پاکستان کی مجموعی معاشی بحالی کے سفر میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، البتہ ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ بیرونی فنانسنگ، افراط زر اور پالیسی عمل درآمد سے متعلق خطرات اب بھی موجود ہیں۔
E

