سندھ ہائی کورٹ کا سروس روڈ پر غیر قانونی فوڈ اسٹریٹ ختم کرنے کا حکم

IMG 20260209 WA2336


کراچی — سندھ ہائی کورٹ نے کراچی کے ایک اہم سروس روڈ پر قائم غیر قانونی فوڈ اسٹریٹ کو فوری طور پر ختم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
جسٹس محمد جمیل عثمان اور جسٹس عدنان اقبال چوہدری پر مشتمل ڈویژن بنچ نے یہ حکم ایک درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیا۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ سروس روڈ پر غیر قانونی طور پر قائم فوڈ اسٹریٹ کی وجہ سے ٹریفک کی شدید روانی متاثر ہو رہی ہے، پیدل چلنے والوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور یہ سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضہ ہے۔
درخواست میں درج ذیل فریقین کو فریق بنایا گیا تھا:
وزارت بلدیات، سندھ
ٹاؤن ناظم، کورنگی ٹاؤن
ڈپٹی کمشنر، کورنگی
ایڈمنسٹریٹر، کورنگی ٹاؤن
دیگر متعلقہ حکام اور ادارے
عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں واضح کیا کہ:
سروس روڈ عوامی استعمال کے لیے ہے اور اسے کسی بھی قسم کے کمرشل یا غیر قانونی قبضے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
غیر قانونی فوڈ اسٹریٹ کی وجہ سے عوامی سہولیات، ٹریفک فلو اور پیدل چلنے والوں کی آمدورفت شدید متاثر ہو رہی ہے۔
متعلقہ حکام کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ فوری طور پر اس غیر قانونی فوڈ اسٹریٹ کو ختم کریں اور سروس روڈ کو اس کے اصل مقصد کے مطابق بحال کریں۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ اس حکم کی تعمیل کی رپورٹ بھی جمع کرائیں۔
یہ فیصلہ کراچی کے شہریوں، خاص طور پر کورنگی اور اس کے اطراف کے علاقوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، جو طویل عرصے سے اس غیر قانونی فوڈ اسٹریٹ کی وجہ سے ٹریفک، صفائی اور سڑک کی تنگدستی کا شکار تھے۔
عدالت کا یہ حکم نہ صرف سروس روڈ بلکہ شہر کے دیگر علاقوں میں غیر قانونی قبضوں اور کمرشل سرگرمیوں کے خلاف بھی ایک واضح پیغام ہے۔

متعلقہ پوسٹ