اسلام آباد، 10 فروری 2026 — پاکستان کی نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے NEPRA (Prosumer) Regulations, 2026 جاری کرتے ہوئے ملک میں دہائیوں پرانے نیٹ میٹرنگ نظام کو ختم کر دیا ہے اور اس کی جگہ نیٹ بلنگ کا نیا نظام متعارف کرا دیا ہے۔
یہ فیصلہ 9 فروری 2026 کو S.R.O. 251(I)/2026 کے ذریعے نوٹیفائی کیا گیا، جس کا مقصد تیزی سے بڑھتی سولر انرجی کی گھساؤ کو قابو میں لانا اور نیشنل گرڈ کے مالی بوجھ کو کم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
اہم تبدیلیاں یہ ہیں:
نئے سولر صارفین (اب سے سسٹم لگانے والے) کے لیے گرڈ کو فروخت کی جانے والی اضافی بجلی کی قیمت نیشنل ایوریج انرجی پرچیز پرائس (NAEPP) پر ادا کی جائے گی، جو فی الحال تقریباً 10 سے 11 روپے فی یونٹ ہے (پہلے تقریباً 25.9 روپے فی یونٹ تھا)۔
گرڈ سے لی جانے والی بجلی مکمل صارف ٹیرف (جو سلیب کے مطابق 37 سے 55 روپے فی یونٹ یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے) پر چارج ہوگی۔
معاہدے کی مدت 7 سال سے کم کر کے 5 سال کر دی گئی ہے۔
پرانے رجسٹرڈ صارفین (موجودہ نیٹ میٹرنگ والے) کا پرانا ریٹ اور نظام اپنے 7 سالہ معاہدے کے خاتمے تک برقرار رہے گا، البتہ بلنگ فوری طور پر نیٹ بلنگ کی طرف شفٹ ہو جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے نئے سولر سسٹم لگانے کا معاشی فائدہ نمایاں طور پر کم ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں آف گرڈ سسٹم (بیٹری والے) کی طرف رجحان بڑھ سکتا ہے۔ ملک میں فی الحال تقریباً 7,000 میگاواٹ نیٹ میٹرنگ سولر انسٹالڈ ہے جبکہ 4 لاکھ 66 ہزار سے زائد صارفین اس سہولت سے مستفید ہیں۔
یہ فیصلہ سولر انرجی سیکٹر اور صارفین میں شدید تنقید کا باعث بن رہا ہے، جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ یہ قدم پاور سیکٹر کے مالی استحکام کے لیے ناگزیر تھا۔

