امریکی صدر کی دھمکیوں سے نیٹو کا ممکنہ سقوط، یورپی حکام کا بعد کی صورتحال بارے غور شروع
Source link
متعلقہ پوسٹ
’کشمیر انڈیا کا حصہ:‘ امریکی عہدے دار کے بیان پر پاکستان کی شدید مذمت
پاکستان نے بدھ کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے حوالے سے نئی دہلی میں تعینات امریکی سفیر کے بیان پر اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ انڈیا میں امریکی سفیر سرجیو گور نے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے خصوصی ایلچی کے طور پر…
ایران-امریکہ امن معاہدہ حتمی مراحل میں، جلد اعلان کی امید
واشنگٹن / تہران —ایران اور امریکہ کے درمیان تاریخی امن معاہدے پر مذاکرات حتمی مراحل میں داخل ہوگئے ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان اہم امور پر اتفاق رائے قائم ہوگیا ہے۔نئی دہلی میں موجود امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آئندہ چند گھنٹوں میں "خوش خبری” کی امید ظاہر کی ہے، جبکہ صدر…
کینیڈی سینٹر سے ٹرمپ کا نام عدالتی حکم پر ہٹا دیا گیا
واشنگٹن — کینیڈی سینٹر نے عدالتی حکم کی تعمیل میں اپنی عمارت سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام ہٹا دیا ہے۔ یہ اقدام اپیل کورٹ کے فیصلے کے بعد کیا گیا، جبکہ ادارے کا نام تبدیل کرنے کا تنازع تاحال عدالتوں میں زیرِ سماعت ہے۔سی این این کے مطابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر میٹ فلوکا نے بتایا کہ جج کے حکم…
ستلج، کھالڑا اور اندرابی کے قاتلوں کی داستان
اجیت سنگھ سندھو اور میجر اوتار سنگھ کی داستانیں یہ یاد دلاتی رہیں گیں کہ جب دنیا کی عدالتیں اور حکومتیں اپنے خونی کارندوں کو بچانے کے لیے ڈھال بن جاتی ہیں، تو قدرت خود مدعی بن کر میدان میں اترتی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ 8 جولائی 2026 کو چنڈی گڑھ، پنجاب میں گوردوارہ سری مکتسر صاحب پی یو…
اسلام آباد کے سیکٹر F-10 کی مصروف سڑک کو تاشقند سٹریٹ کا نام مل گیا
(ویب ڈیسک) اسلام آباد کے سیکٹر F-10 کی مصروف سڑک کو تاشقند سٹریٹ کا نام مل گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیف کے ساتھ مل کر آج اسلام آباد میں تاشقند سٹریٹ اور بابر پارک کی دو یادگاری تختیوں کی نقاب کشائی کی۔ اسلام آباد کے سیکٹر F-10 کی ایک مرکزی سڑک کو تاشقند سٹریٹ…
گوا میں نیٹ مظاہرین کو تھانے طلب کیا گیا، طویل سوالنامے میں عمر خالد کے بارے میں پوچھا گیا: رپورٹ
گوا کے ماپوسا سے کم از کم دو مظاہرین کو پولیس نے طلب کیا اور ان سے 240 نکات پر مشتمل ایک سوالنامہ بھروایا گیا، جس میں’فری عمر خالد‘سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟، کیا آپ نے اپنی تقریر کے دوران کسی سرکاری اتھارٹی کی تنقید کی؟، اور احتجاج کے لیے مالی مدد کس نے دی؟ جیسے سوال پوچھے گئے ۔…

