سینیٹ نے بچوں کی فحش ویڈیوز پر سزا 10 سال اور جرمانہ ایک کروڑ تک بڑھانے کا بل منظور کر لیا

IMG 20260212 WA0087


اسلام آباد  — ایوانِ بالا یعنی سینیٹ آف پاکستان نے آج اہم ترامیم پر مشتمل کئی بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیے ہیں جن کا مقصد بچوں کے تحفظ، جنسی استحصال کے جرائم اور سائبر کرائم کے خلاف سخت اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔
سب سے اہم بل انسداد الیکٹرانک جرائم (ترمیمی) بل ہے جس کے تحت Prevention of Electronic Crimes Act (PECA) میں ترمیم کی گئی ہے۔ اس ترمیم کے مطابق بچوں کی فحش ویڈیوز یا تصاویر بنانے، رکھنے، پھیلانے یا فروخت کرنے والوں کے لیے سزا کو 7 سال سے بڑھا کر 10 سال قید تک کر دیا گیا ہے جبکہ جرمانہ 50 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے تک کر دیا گیا ہے۔
اسی طرح پیکا ایکٹ کی ایک اور اہم ترمیم کے تحت وفاقی حکومت کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان تمام ممالک کے ساتھ میوچوئل لیگل اسسٹنس ٹریٹی (Mutual Legal Assistance Treaty) کرے جہاں کی سوشل میڈیا ایپلیکیشنز اور پلیٹ فارمز پاکستان میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہے ہیں تاکہ سائبر جرائم کے مقدمات میں بین الاقوامی تعاون ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب کرمنل قوانین میں ترمیم کا بل بھی منظور کر لیا گیا جس کے تحت:
زیادتی (ریپ) کا شکار لڑکے یا لڑکی کا میڈیکل معائنہ نہ کرنے پر ڈاکٹر یا متعلقہ عملے کو ایک سال تک قید اور جرمانہ کی سزا ہو گی۔
سرکاری یا نجی اسپتالوں کو ریپ متاثرین کو فوری ابتدائی طبی امداد فراہم کرنا لازمی ہو گا۔
نجی اسپتالوں کو 24 گھنٹوں کے اندر متاثرہ کو سرکاری اسپتال ریفر کرنے کا پابند کیا گیا ہے، ورنہ ان پر بھی سزا کا اطلاق ہو گا۔
یہ تمام ترامیم بچوں کے تحفظ، جنسی جرائم کے شکار افراد کی فوری مدد اور سائبر کرائم کے خاتمے کے لیے اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہیں۔ بلز اب قومی اسمبلی کی منظوری اور صدر مملکت کی توثیق کے بعد قانون کا درجہ حاصل کریں گے۔

متعلقہ پوسٹ