نئی دہلی — بھارتی سپریم کورٹ نے Netflix پر آنے والی آنے والی ہندی فلم ‘گھوس خور پنڈت’ (Ghooskhor Pandat) کے عنوان کو ایک مخصوص برادری (خاص طور پر برہمن کمیونٹی) کے لیے توہین آمیز اور بدنام کن قرار دیتے ہوئے فلم سازوں کو سخت ہدایت کی ہے کہ فلم کو کسی نئے متبادل عنوان کے ساتھ ہی ریلیز کیا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ فلم کی ریلیز اس وقت تک روک دی جائے گی جب تک نیا ٹائٹل عدالت کو مطلع نہیں کیا جاتا۔
جمعرات کو سپریم کورٹ کی بنچ نے (جس کی سربراہی جسٹس بی وی نگرتھنا کر رہی تھیں) فلم کے پروڈیوسر نیرج پانڈے اور دیگر فریقین کو تنبیہ کی کہ "آزادی اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے نام پر کسی طبقے کو نیچا دکھایا جائے یا بدنام کیا جائے۔ معاشرے میں پہلے ہی تقسیم ہے، اسے مزید نہ بڑھایا جائے۔” عدالت نے فلم کے مواد میں بھی کسی برادری کے خلاف توہین آمیز مواد کی موجودگی کی وضاحت طلب کی۔
فلم کا ٹیزر رواں ماہ Netflix نے جاری کیا تھا، جس میں منوج باجپائی مرکزی کردار میں نظر آئے۔ عنوان ‘گھوس خور پنڈت’ (یعنی رشوت خور یا بدعنوان پنڈت) پر برہمن برادری اور دیگر تنظیموں نے شدید احتجاج کیا، اسے ذات پات پر مبنی توہین قرار دیا۔ ملک بھر میں مظاہرے ہوئے، پتلے جلائے گئے، اور یوپی میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت پر لکھنؤ میں فلم کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی۔
اس تنازع کے بعد پروڈیوسر نیرج پانڈے نے بیان دیا تھا کہ عنوان سے کچھ لوگوں کو تکلیف پہنچی ہے اور وہ ان جذبات کا احترام کرتے ہیں۔ تمام پروموشنل مواد، بشمول ٹیزر، یوٹیوب اور سوشل میڈیا سے ہٹا دیا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ فلم ایک افسانوی پولیس افسر کی کہانی ہے جو کرپشن اور انصاف کے گرد گھومتی ہے، نہ کہ کسی برادری یا مذہب پر تبصرہ۔
فلم نیرج پانڈے (رائٹر اور پروڈیوسر) اور ریتیش شاہ (ڈائریکٹر، یہ ان کی پہلی فلم ہے) کی مشترکہ کاوش ہے۔ اس میں منوج باجپائی کے علاوہ نُشرت بھروچہ، ساقب سلیم، اکشے اوبرائے اور دیویا دتہ مرکزی کرداروں میں ہیں۔
فلم Netflix پر رواں سال ریلیز ہوگی، تاہم نیا عنوان اور ریلیز کی تاریخ کا اعلان ابھی باقی ہے۔ یہ واقعہ بھارت میں فلموں کے عنوانات، آزادی اظہار اور کمیونٹی جذبات کے درمیان حساس توازن کو اجاگر کرتا ہے۔

