سائبر کرائم ایجنسی میں بڑا جھٹکا: 77 افسران کے کنٹریکٹ ختم، جاری مقدمات متاثر ہونے کا خدشہ

IMG 20260216 WA0006



اسلام آباد: قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں 77 افسران کی خدمات ان کے تین ماہہ توسیعی کنٹریکٹس ختم ہونے کے بعد منقطع کر دی گئیں۔
ذرائع کے مطابق یہ توسیع فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے ذریعے دی گئی تھی جو اب اپنی مدت پوری کر چکی ہے۔
سرکاری تفصیلات کے مطابق جن افسران کے کنٹریکٹ ختم کیے گئے ان میں شامل ہیں:
4 ڈپٹی ڈائریکٹرز
47 اسسٹنٹ ڈائریکٹرز
1 آفس سپرنٹنڈنٹ
7 ٹیکنیکل آفیسرز
18 انسپکٹرز
یہ افسران تکنیکی، فارنزک اور انویسٹی گیشن ونگز میں خدمات انجام دے رہے تھے اور زیادہ تر گریڈ 16 سے 18 کے درمیان تھے، جو ایجنسی کے آپریشنل ڈھانچے میں کلیدی حیثیت رکھتے تھے۔
ذرائع کے مطابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر (انویسٹی گیشن) اسد فخرالدین کو ایک جاری انکوائری کی تکمیل تک برقرار رکھا گیا ہے، تاہم دیگر افسران کو کسی قسم کی مزید رعایت نہیں دی گئی۔
اندرونی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اچانک اتنی بڑی تعداد میں تربیت یافتہ افسران کی رخصتی سے جاری سائبر کرائم مقدمات، زیر التواء درخواستوں، ڈیجیٹل فارنزک تجزیوں اور عدالتی کارروائیوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ملک بھر میں آن لائن فراڈ، ہراسگی، ڈیٹا چوری اور سائبر استحصال کے بڑھتے ہوئے کیسز کے تناظر میں افرادی قوت میں یہ کمی انصاف کی فراہمی میں تاخیر کا سبب بن سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر جنرل NCCIA نے 258 نئی آسامیوں کی منظوری کے لیے PC-1 جمع کرا دیا ہے تاکہ ادارے کی استعداد کار کو بہتر بنایا جا سکے۔
تاہم، سابق کنٹریکٹ افسران کو مستقل کرنے یا موجودہ قواعد کے تحت مستقل اسامیاں تخلیق کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔
مبصرین کے مطابق نئی بھرتیاں طویل المدتی حل فراہم کر سکتی ہیں، لیکن فوری طور پر تجربہ کار افسران کی کمی ادارے کے لیے ایک بڑا انتظامی اور آپریشنل چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ پوسٹ