پاکستانی فوج نے جمعے کو بتایا ہے کہ چار اور پانچ فروری 2026 کو خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ کارروائیوں میں ’انڈین پراکسی فتنہ الخوارج‘ سے تعلق رکھنے والے 24 عسکریت پسندوں کو مار دیا گیا۔
’فتنہ الخوارج‘ کی اصطلاح پاکستانی حکومت اور فوج کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے استعمال کرتی ہے، جن کے بارے میں اسلام آباد کا موقف ہے کہ ان کی قیادت افغانستان میں موجود ہے اور انہیں انڈیا کی سرپرستی حاصل ہے۔ تاہم کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق عسکریت پسندوں کی ’مبینہ موجودگی کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے ضلع اورکزئی میں ایک انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی کی۔‘
بیان کے مطابق آپریشن کے دوران فورسز نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 14 عسکریت پسند مارے گئے۔
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے ضلع خیبر میں انٹیلی جنس پر مبنی ایک اور کارروائی کی، جس کے دوران ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں مزید 10 عسکریت پسند مارے گئے۔
بیان میں کہا گیا کہ علاقے میں کسی اور انڈین حمایت یافتہ عسکریت پسند کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں۔
بقول آئی ایس پی آر: ’پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے وفاقی ایپکس کمیٹی برائے قومی ایکشن پلان سے منظور شدہ ’عزمِ استحکام‘ کے وژن کے تحت غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کو ملک سے مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے جاری انتھک انسداد دہشت گردی مہم کو پوری شدت کے ساتھ جاری رکھیں گے۔‘

