150 سال بعد دیوہیکل کچھوے گالاپاگوس جزیرے پر واپس آ گئے

IMG 20260221 WA2020


فلوریانا جزیرہ، گالاپاگوس، فروری 2026 — تحفظِ ماحول کی تاریخ میں ایک عظیم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ تقریباً 150 سال بعد دیوہیکل کچھوے ایکواڈور کے مشہور گالاپاگوس جزیرچے کے فلوریانا جزیرے پر دوبارہ آباد کر دیے گئے ہیں۔
یہ تاریخی قدم ایکواڈور کے ماحولیاتی اداروں، بین الاقوامی سائنسدانوں اور تحفظِ فطرت کی تنظیموں کی عشروں پر محیط انتھک محنت کا ثمر ہے۔
دیوہیکل کچھوے، جو سو سال سے زیادہ زندہ رہ سکتے ہیں اور جن کا وزن 400 کلوگرام تک ہو سکتا ہے، کبھی گالاپاگوس جزائر میں بہتات سے پائے جاتے تھے۔ تاہم صدیوں تک ملاحوں اور قزاقوں کے ہاتھوں شکار اور غیر مقامی جانوروں کی وجہ سے ہونے والی تباہی نے 1800 کی دہائی میں انہیں فلوریانا جزیرے سے ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا تھا۔
دوبارہ آباد کیے گئے کچھووں کا جینیاتی تجزیہ کر کے یہ تصدیق کی گئی کہ ان کا نسب اصل فلوریانا آبادی سے ملتا ہے۔ انہیں تحفظی مراکز میں احتیاط سے پالا گیا اور پھر ان کے آبائی جزیرے پر منتقل کیا گیا۔
ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ یہ کچھوے محض ایک علامت نہیں بلکہ جزیرے کے ماحولیاتی نظام کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ یہ بیج پھیلانے، نباتات کو چَرنے اور جزیرے کی حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے انہیں "ماحولیاتی انجینئر” بھی کہا جاتا ہے۔
گالاپاگوس جزائر، جو یونیسکو عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں، وہی مقام ہیں جہاں چارلس ڈارون نے 1835 میں اپنے دورے کے دوران ارتقاء کا نظریہ پیش کرنے کی بنیاد رکھی تھی۔ اس کامیاب بحالی کو خطے کی تاریخ کی سب سے اہم جنگلی حیات بحالی کوششوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ پوسٹ