مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے جب ایران کے خطے میں موجود تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ اسرائیل میں گیس کی پیداوار بھی عارضی طور پر بند کر دی گئی ہے۔ ان پیش رفتوں کے بعد عالمی توانائی منڈی میں بے چینی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے شہر دمام کے قریب واقع Saudi Aramco کی اہم تنصیب Ras Tanura Refinery کو ڈرون حملے کے بعد عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔ راس تنورہ ریفائنری دنیا کی بڑی آئل ریفائنریوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کی بندش سے سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ادھر اسرائیل میں حکام نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر بحیرہ روم میں واقع اہم گیس فیلڈز سے گیس کی پیداوار معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ممکنہ حملوں سے توانائی تنصیبات کو محفوظ بنانا بتایا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ Saudi Aramco پر حملے نے توانائی کے عالمی شعبے میں تشویش کی نئی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ عالمی تیل و گیس سپلائی کا بڑا مرکز ہے۔ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

