امریکہ کا ایران کی تین جوہری تنصیبات پر حملہ — واشنگٹن کا بھاری نقصان کا دعویٰ، تہران کا انکار

hm 010326 d


تہران / واشنگٹن — امریکہ نے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات — نطنز، فردو اور اصفہان — پر فضائی حملے کیے ہیں، جن میں B-2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں سے بھاری بنکر بسٹر بم اور آبدوز سے داغے گئے ٹوماہاک میزائل استعمال کیے گئے۔
یہ حملہ امریکی فضائیہ اور بحریہ نے "آپریشن مڈنائٹ ہیمر” کے نام سے انجام دیا اور تینوں مقامات کو چودہ GBU-57A/B MOP بنکر بسٹر بموں اور ٹوماہاک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ 
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ حملے نے ایران کی جوہری تنصیبات کو "مکمل طور پر تباہ و برباد” کر دیا  (Wikipedia) ، تاہم پینٹاگون کا ابتدائی تجزیہ یہ تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو تقریباً دو سال پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ 
دوسری جانب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی کہ جوہری مقامات کو شدید نقصان پہنچا  ، مگر ایرانی حکام نے زور دے کر کہا کہ یہ حملہ متوقع تھا اور اہم لوازمات پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیے گئے تھے۔ ایرانیوں نے حملے سے قبل ہی فردو کی وینٹیلیشن شافٹس کو کنکریٹ سے ڈھانپنے کی کوشش کی تھی۔ 
IAEA کے سربراہ رافائل گروسی نے حملے کے بعد کہا کہ ایران چند ماہ میں یورینیم افزودگی دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔ 
یہ حملہ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کے دوران کیا گیا، جس نے عالمی سطح پر سنگین تشویش پیدا کر دی۔

متعلقہ پوسٹ