یروشلم – اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کو جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے پر رضامندی کے لیے صرف 24 گھنٹے کی مہلت دیں۔ بصورت دیگر، مذاکرات کا باب ہمیشہ کے لیے بند کر دینا چاہیے۔ سموٹریچ نے یہ بیان ایک سکیورٹی اجلاس کے دوران دیا۔سموٹریچ نے شمالی غزہ کو اسرائیل میں شامل کرنے اور وہاں نئی یہودی بستیاں قائم کرنے کی تجویز بھی دی۔ انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں یہ ایک سنہری موقع ہے۔ ہم شمالی غزہ سے آغاز کر سکتے ہیں، اور تین نئی بستیاں قائم کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی چیف آف اسٹاف بھی حالیہ دنوں میں شمالی غزہ کو ’’سکیورٹی انضمام‘‘ کے طور پر اسرائیل میں شامل کرنے کی حمایت کر چکے ہیں۔دوسری جانب، باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکہ نے حماس کو خبردار کیا ہے کہ اس کا صبر ختم ہوتا جا رہا ہے۔ سی این این کے مطابق، امریکہ نے حماس کو پیغام دیا ہے کہ اسے جنگ بندی سے متعلق نئے مجوزہ معاہدے پر فوری ردعمل دینا ہوگا، ورنہ امریکہ اسرائیل کو دی گئی ان ضمانتوں سے دستبردار ہو سکتا ہے، جن کے تحت اسرائیل مذاکرات پر رضامند ہوا تھا۔ذرائع کے مطابق حماس کے اعلیٰ رہنما خلیل الحیہ اس معاہدے کے حق میں ہیں، تاہم وہ غزہ میں موجود تنظیم کی قیادت کی منظوری کا انتظار کر رہے ہیں۔امریکہ، مصر اور قطر کی جانب سے حماس پر سفارتی دباؤ بڑھا دیا گیا ہے تاکہ غزہ میں جاری انسانی بحران کے پیشِ نظر جلد از جلد معاہدہ طے پا سکے۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ہفتے اہم نکات پر پیش رفت کے بعد معاہدے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق، حماس آئندہ چند دنوں میں معاہدے پر رضامندی ظاہر کر سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت 60 دن کی جنگ بندی ہوگی، جس کے دوران حماس 28 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گی، جن میں 10 زندہ افراد اور 18 ہلاک شدگان کی لاشیں شامل ہیں۔اس دوران غزہ میں اقوام متحدہ اور ریڈ کریسنٹ کی نگرانی میں فوری اور بڑے پیمانے پر انسانی امداد پہنچائی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے مذاکرات کے دوران بعض علاقائی نقشوں اور فوجی پوزیشنز میں لچک کا مظاہرہ کیا ہے، جن میں محور موراگ کی حد بندی میں تبدیلی اور افواج کی نئی تعیناتی شامل
متعلقہ پوسٹ
وزیراعظم شہباز شریف سے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی کی ملاقات، جھل مگسی گیس فیلڈ منصوبے پر بریفنگ
فائزہ یونس:( نمائندہ خصوصی پاکستان ) اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی نوابزادہ خالد حسین مگسی نے اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں توانائی کے شعبے خصوصاً جھل مگسی گیس فیلڈ منصوبے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے وزیراعظم کو جھل مگسی گیس فیلڈ کی پیش رفت پر بریفنگ…
دہلی: بی جے پی اور آر ایس ایس رہنماؤں کی مبینہ دہشت گرد سرگرمیوں پر سابق ترجمان کے سنگین انکشافات
آر ایس ایس کے سابق ترجمان یشونت شندے نے بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ شندے کا کہنا ہے کہ ہندو قوم پرست تنظیمیں ہندوتوا نظریے کے تحت ملک میں دہشت گرد حملے منظم کرتی…
ہیلری اور بل کلنٹن کا ایپسٹین کیس میں اپنی گواہی عوامی کرنے کا مطالبہ
ہیلری اور بل کلنٹن کا ایپسٹین کیس میں اپنی گواہی عوامی کرنے کا مطالبہ بند کمرے میں بیان دینا کسی کینگرو کورٹ کے مترادف ہوگا، بل کلنٹن ویب ڈیسک February 8, 2026 سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور ان کی اہلیہ سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے ایپسٹن کے حوالے سے اپنی گواہی عوام ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ کلنٹن…
مشرقِ وسطیٰ بحران، فضائی حدود بندش سے ایئرلائنز کو کھربوں روپے کا نقصان
مشرقِ وسطیٰ بحران، فضائی حدود بندش سے ایئرلائنز کو کھربوں روپے کا نقصان مشرقِ وسطیٰ کے سات ممالک کے ایئرپورٹس سے چار روز کے دوران تقریباً 9 ہزار 500 پروازیں منسوخ کی گئیں ویب ڈیسک March 3, 2026 مشرقِ وسطیٰ میں کشیدہ صورتحال کے باعث فضائی حدود کی بندش اور پروازوں کی منسوخی نے عالمی ایوی ایشن صنعت کو شدید…
واشنگٹن — امریکی نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر تلسی گبارڈ مستعفی،
ٹرمپ انتظامیہ کو ایک اور بڑا دھچکا لگا ہے جب امریکی نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔تلسی گبارڈ نے استعفے کی وجہ اپنے شوہر کو انتہائی نایاب قسم کے ہڈیوں کے کینسر کی تشخیص بتائی، جس کے باعث انہوں نے خاندانی ذمہ داریوں کو ترجیح دیتے ہوئے یہ اہم عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ…
2005 کے تباہ کن زلزلے کو 20 برس بیت گئے، زخم آج بھی تازہ
اسلام آباد (وائس آف جرمنی ) — 8 اکتوبر 2005 کے ہولناک زلزلے کو آج 20 برس مکمل ہو گئے ہیں، مگر اس سانحے کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ 7.6 شدت کے اس زلزلے نے آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع کو تباہ و برباد کر دیا تھا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زلزلے میں 87 ہزار…

