اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ضرور ہوئی ہیں تاہم جو حالات ہیں ان میں قیمتوں میں شاید زیادہ رد و بدل نہ آئے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب عوام عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد ملک میں بھی پیٹرول سستا ہونے کی توقع لگائے بیٹھے تھے۔
وزیر پیٹرولیم نے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا دفاع کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر پیٹرول کی قیمت میں اضافہ نہ کرتے تو متبادل راستہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 2022 میں عدم اعتماد کے وقت پیٹرول کی قیمتوں پر سیاست کی جس کے نتیجے میں ملک کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ علی پرویز ملک نے خبردار کیا کہ پیٹرول کی قیمت پر سیاست کرنے کا نقصان پھر ملک کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
حکومت کے اس موقف کو حزب اختلاف اور عوامی حلقوں میں کھلا یوٹرن قرار دیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جب عالمی سطح پر تیل مہنگا ہوتا ہے تو حکومت فوری طور پر قیمتیں بڑھا دیتی ہے لیکن جب قیمتیں گرتی ہیں تو عوام کو ریلیف دینے سے گریز کیا جاتا ہے جو کہ عوام کے ساتھ کھلا دھوکہ ہے۔
وزیر پیٹرولیم کے اہم بیانات:
عالمی سطح پر قیمتیں کم ہوئی ہیں لیکن حالات کے پیش نظر زیادہ رد و بدل کا امکان نہیں
پیٹرول مہنگا نہ کرتے تو متبادل کیا تھا؟
پی ٹی آئی نے 2022 میں پیٹرول کی قیمت پر سیاست کی جس سے ملک کو نقصان ہوا
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود عوام کو ریلیف نہ دینا حکومت کی ترجیحات پر سوالیہ نشان ہے۔ مہنگائی کی مار پہلے سے جھیل رہے عوام کو پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کی بڑی امید تھی جو اس اعلان کے بعد خاک میں مل گئی۔

