کم آمدن افراد کو بڑا ریلیف — حکومت نے موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کے لیے 23 ارب روپے کی سبسڈی منظور کر لی


اسلام آباد — 16 مارچ 2026
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد وفاقی حکومت نے کم آمدن طبقے کو بڑا ریلیف دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سیکرٹری پیٹرولیم نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ حکومت نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت بچائی گئی رقم سے 23 ارب روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے، جو موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کو فراہم کی جائے گی۔ اس سبسڈی سے تقریباً 3 کروڑ ٹو ویلرز اور تھری ویلرز مستفید ہوں گے۔ 
حکام کے مطابق سبسڈی کی فراہمی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے ڈیٹا کی بنیاد پر کی جائے گی تاکہ امداد صرف اہل اور مستحق افراد تک پہنچ سکے۔ 
کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ وزیرِاعظم کی تشکیل کردہ وزارتی کمیٹی پیٹرولیم مصنوعات کی صورتحال کا روزانہ جائزہ لے رہی ہے۔ اس وقت ملک میں خام تیل کے 11 دن، ڈیزل کے 21 دن، پیٹرول کے 27 دن، ایل پی جی کے 9 دن اور جے پی ون کے 14 دن کے ذخائر موجود ہیں۔ 
یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ایران جنگ کے اثرات پاکستانی عوام کی روزمرہ زندگی پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں اور پیٹرول کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ خاص طور پر موٹر سائیکل اور رکشہ چلانے والے محنت کش طبقے کے لیے سخت مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔

متعلقہ پوسٹ