اسلام آباد — وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ مسلمان مرد شرعی طور پر اہلِ کتاب خواتین سے نکاح کر سکتے ہیں، اور چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت فوجداری سزا کے باوجود ایسا نکاح کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یہ فیصلہ لاہور کی رہائشی ماریہ بی بی کے معاملے میں آیا، جنہوں نے اسلام قبول کر کے شہریار نامی لڑکے سے شادی کی تھی۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ لڑکی نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیا کہ اس نے اپنی مرضی سے، بغیر کسی دباؤ کے نکاح کیا۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ لڑکی کے والد کے بیانات میں تضاد پایا گیا — ایف آئی آر میں بیٹی کی عمر 13 سے 14 سال، جبکہ دلائل میں 12 سال 9 ماہ بتائی گئی — اور انحصار کی گئی دستاویزات شک سے بالاتر نہیں۔
عدالت نے آئینی حیثیت کے حوالے سے واضح کیا کہ آئینی تشریح کا حتمی اختیار وفاقی آئینی عدالت کو حاصل ہے، اور سپریم کورٹ سمیت تمام عدالتیں اس کے احکامات کی پابند ہیں۔

