ایم این اے ہاسٹل میں غیر قانونی لوگ رہ رہے ہیں، جو زیادہ تر ایک ہی پارٹی سے ہیں
اسلام آباد (26 مارچ 2026): وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پارلیمنٹ لاجز کے فنڈز میں خوردبرد ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں انہوں نے کہا کہ فنڈز میں خوردبرد بھی ہوئی ہوگی اور نئے پارلیمنٹ لاجز کا منصوبہ التوا کا شکار رہا ہے۔
اجلاس میں طلال چوہدری نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایم این اے ہاسٹل میں غیر قانونی طور پر لوگ رہ رہے ہیں، جن میں سے زیادہ تر ایک ہی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے اسے پارلیمنٹ لاجز اور ہاسٹلز میں سیکیورٹی اور انتظامی مسائل کی ایک مثال قرار دیا۔
اجلاس کی صدارت سینیٹر فیصل سلیم نے کی۔ وزیر مملکت نے بتایا کہ پارلیمنٹ لاجز کے نئے بلاک کی تعمیر میں تاخیر ہوئی ہے اور پرانی سہولیات کی مرمت و بحالی کے فنڈز میں بھی بے ضابطگیاں پائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے کی تفصیلی تحقیقات کرائے گی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
اپوزیشن ارکان نے اس اعتراف پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ فنڈز کی خوردبرد میں ملوث تمام افراد کا احتساب کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ غیر قانونی رہائش کاروں کی وجہ سے پارلیمنٹ لاجز میں سیکیورٹی کا سنگین خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
طلال چوہدری نے یقین دہانی کرائی کہ پارلیمنٹ لاجز اور ایم این اے ہاسٹلز میں غیر قانونی قبضوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے گا اور تمام سہولیات کو ارکان پارلیمنٹ کی حقیقی ضرورت کے مطابق بحال کیا جائے گا۔

