حکومت سندھ کا کاروبار اور مارکیٹیں بند کرنے کا اعلان؛ نوٹیفکیشن جاری
شادی ہالز اور بینکوئٹس رات 8 بجے سے 12 بجے (نصف شب) تک کھلے رہ سکیں گے
کراچی: حکومت سندھ نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت صوبے میں نئے کاروباری اوقات کار کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
حکومتِ سندھ نے ایندھن کی بچت اور حکومتی کفایت شعاری پالیسی کے تحت صوبے بھر میں کاروباری اوقات محدود کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کا اطلاق فوری ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق تمام دکانیں، مارکیٹس اور شاپنگ مالز ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کے علاوہ دیگر اضلاع میں ہفتے کے ساتوں دن شام 8 بجے تک بند کر دیے جائیں گے، جبکہ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں یہی کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔
حکومت نے نوٹیفکیشن میں واضح کیا ہے کہ تندور، دودھ و ڈیری شاپس، بیکریز، میڈیکل اسٹورز، لیبارٹریز، اسپتال اور پیٹرول پمپس ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے۔
اسی طرح ہوٹلز، ریسٹورنٹس اور فوڈ آؤٹ لیٹس کو رات 7 بجے سے 11 بج کر 30 منٹ تک کھولنے کی اجازت ہوگی، تاہم ہوم ڈیلیوری اور ٹیک اوے سروس پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔
علاوہ ازیں شادی ہالز اور بینکوئٹس کے اوقات بھی مقرر کر دیے گئے ہیں، جن کے مطابق یہ رات 8 بجے سے 12 بجے (نصف شب) تک کھلے رہ سکیں گے۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز سندھ پولیس کی مدد سے اپنے اپنے علاقوں میں ان احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔
اس موقع پر کراچی الیکٹرونکس ڈیلرز کے صدر رضوان عرفان نے کہا کہ ہم نے حکومت سندھ، میئر کراچی و دیگر کو تجویز دی تھی کہ کاروبار رات 9 بجے شادی ہالز 12 بجے بند ہوں گے۔
رضوان عرفان نے مزید کہا کہ حکومت سندھ نے ہماری تجویز پر عملدرامد کرایا ہم حکومت سندھ کے فیصلے پر عملدرامد کریں گے۔
دوسری جانب انجمن تاجران کراچی کے صدر جاوید شمس نے کہا کہ کفایت شعاری کے نام پر سندھ حکومت نے من مانی کی ہے تاجر تنظیموں کی مشاورت کے باوجود رات 8 بجے کاروبار کی بندش نامنظور ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نے سندھ سرکار کو کراچی کی آبادی اور مساٸل کو دیکھتے ہوئے فیصلے کرنے چاہیے سندھ حکومت نے تاجروں کی جانب سے 9 بجے مارکیٹیں بند کرنے کی سفارش مسترد کی ہم اس کی مزمت کرتے ہیں۔
جاوید شمس نے مزید کہا کہ سندھ حکومت نے ہمیشہ تاجروں اور عوامی مفاد کے خلاف فیصلے کیے جبکہ انجمن تاجران کراچی کا ہنگامی مشاورتی اجلاس شام 5 بجے بلا لیا گیا۔


