نئی دہلی —
بھارت میں اپوزیشن اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد مودی حکومت نے پہلی بار مشرق وسطیٰ بحران پر اپنی خاموشی توڑی ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور تباہی پر گہری تشویش کا اظہار کیا، تاہم پورے بیان میں اسرائیل کا نام ایک بار بھی نہیں لیا گیا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارت عالمی قوانین، تمام ممالک کی خود مختاری اور ملکی سلامتی کے احترام کو ضروری سمجھتا ہے۔ بیان میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کی اپیل بھی کی گئی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارت کا یہ بیان ابہام پر مبنی ہے اور نئی دہلی نے اسرائیل کو براہِ راست مخاطب کرنے سے گریز کرتے ہوئے محض سفارتی لیپا پوتی کی ہے۔ بھارت اسرائیل کے ساتھ اپنے دفاعی اور تجارتی تعلقات کی وجہ سے واضح موقف اختیار کرنے سے ہمیشہ گریزاں رہا ہے۔

