بیجنگ (15 اپریل 2026) — چین نے ہوا بازی کی صنعت میں ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے دنیا کا پہلا میگا واٹ کلاس ہائیڈروجن سے چلنے والا ٹربوپروپ انجن کامیابی سے آزما لیا ہے۔ اس تجربے کو "پانی سے چلنے والے” طیاروں کی طرف اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ہائیڈروجن کو پانی سے پروڈیوس کیا جا سکتا ہے۔
چین کی سرکاری ایرو انجن کارپوریشن (AECC) نے 4 اپریل 2026 کو صوبہ ہنان کے ژوژو (Zhuzhou) ایئرپورٹ سے ایک 7.5 ٹن وزنی بغیر پائلٹ کارگو طیارے کی تجرباتی پرواز کروائی۔ یہ طیارہ AEP100 نامی میگا واٹ کلاس ہائیڈروجن ایندھن والے انجن سے چلایا گیا۔
تجربے کی تفصیلات:
پرواز کا دورانیہ: 16 منٹ
پرواز کی رفتار: 220 کلومیٹر فی گھنٹہ
بلندی: 300 میٹر
پرواز کی دوری: 36 کلومیٹر
طیارہ تمام منصوبہ بند maneuvers مکمل کر کے محفوظ طریقے سے واپس لینڈ کر گیا۔ انجن پورے فلائٹ کے دوران مکمل طور پر مستحکم رہا۔
ماہرین کے مطابق یہ تجربہ ہائیڈروجن ایوی ایشن ٹیکنالوجی کو لیبارٹری سے حقیقی دنیا میں منتقل کرنے کی طرف اہم سنگ میل ہے۔ چین اسے درآمد شدہ تیل پر انحصار کم کرنے کی قومی حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہا ہے۔ روایتی جیٹ فیول (کیروسین) کی بجائے ہائیڈروجن استعمال کرنے سے نہ صرف کاربن اخراج کم ہوگا بلکہ توانائی کی خودمختاری بھی بڑھے گی۔
AECC کا کہنا ہے کہ اس کامیابی سے ہائیڈروجن ایوی ایشن انجنز کی پوری ٹیکنالوجیکل چین (کور کمپوننٹس سے لے کر مکمل سسٹم انٹیگریشن تک) قائم ہو گئی ہے، جو مستقبل میں کمرشل اور انڈسٹریل استعمال کی بنیاد رکھے گی۔
یہ پیش رفت اس وقت خاص اہمیت کی حامل ہے جب عالمی سطح پر توانائی کے بحران اور تیل کی قیمتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ چین کی یہ کوشش گرین ایوی ایشن اور انرجی سیکیورٹی دونوں کے شعبوں میں اس کی قیادت کو اجاگر کرتی ہے۔

