افغانستان پر انحصار ختم، پاکستان نے ایران کے راستے وسطی ایشیا کے لیے نیا تجارتی راستہ کھول دیا

IMG 20260415 WA2291


گوادر/کراچی (15 اپریل 2026) — پاکستان نے علاقائی تجارت میں ایک اہم سنگ میل حاصل کرتے ہوئے پاکستان-ایران سرحد پر واقع گبد بارڈر ٹرمینل (Gabd-Rimdan Border Terminal) کو بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ (TIR) سسٹم کے تحت مکمل طور پر فعال کر دیا ہے۔
اس نئے کوریڈور کے ذریعے پاکستان اب افغانستان کے راستے پر انحصار ختم کرتے ہوئے ایران کے راستے وسطی ایشیا (خاص طور پر ازبکستان، ترکمانستان وغیرہ) تک براہ راست اور محفوظ رسائی حاصل کر سکے گا۔
نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (NLC) نے اس پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی سے تاشقند (ازبکستان) کے لیے منجمد گوشت (فروزن بیف) کے ریفریجریٹڈ کنٹینرز کی پہلی کھیپ روانہ کر دی گئی ہے۔ یہ شپمنٹ گوادر بندرگاہ سے شروع ہو کر گبد بارڈر کے ذریعے ایران میں داخل ہوگی اور پھر وسطی ایشیا تک جائے گی۔
اہم فوائد:
روایتی افغان راستے کے مقابلے میں مختصر فاصلہ، کم لاگت اور تیز تر ٹرانزٹ ٹائم
زیادہ محفوظ اور جدید ٹرانسپورٹ سہولیات
گوادر اور کراچی بندرگاہوں کی ٹریفک میں اضافہ
پاکستان کی برآمدات (خاص طور پر زرعی اور لائیو سٹاک مصنوعات) کے لیے نئے مواقع
حکام کے مطابق گبد بارڈر ٹرمینل گوادر سے صرف 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جو اسے اسٹریٹجک طور پر انتہائی اہم بناتا ہے۔ یہ اقدام پاکستان کو علاقائی کنیکٹیویٹی کا مرکزی مرکز بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے اور ایران کے ساتھ تعاون کو بھی مزید مضبوط کرے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئے کوریڈور سے نہ صرف پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ وسطی ایشیا کے ممالک کو بھی پاکستان کی بندرگاہوں تک رسائی ملے گی، جس سے علاقائی تجارت کو نئی رفتار ملے گی۔

متعلقہ پوسٹ