امریکا نے مہنگے جاسوس ڈرون کے آبنائے ہرمز میں تباہ ہونے کی تصدیق کر دی

IMG 20260415 WA2289


واشنگٹن/بیجنگ (15 اپریل 2026) — امریکی بحریہ نے اپنے جدید ترین نگرانی والے ڈرون MQ-4C ٹرائٹن کے 9 اپریل 2026 کو آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے قریب تباہ ہونے کی سرکاری تصدیق کر دی ہے۔ یہ ڈرون امریکی بحریہ کا سب سے مہنگا نگرانی والا طیارہ ہے جس کی لاگت تقریباً 24 کروڑ ڈالر (تقریباً 240 ملین امریکی ڈالر) بتائی جاتی ہے۔
ڈرون 9 اپریل کو آبنائے ہرمز کے اوپر نگرانی مشن پر تھا جب اچانک فلائٹ ٹریکنگ سائٹس سے غائب ہو گیا۔ اوپن سورس ٹریکرز (جیسے FlightRadar24) کے مطابق ڈرون نے کوڈ 7700 (جنرل ایمرجنسی) جاری کیا، 52,000 فٹ کی بلندی سے تیزی سے نیچے گرنا شروع کیا اور 10,000 فٹ سے نیچے پہنچنے پر اس کا سگنل مکمل طور پر ختم ہو گیا۔
امریکی نیول سیفٹی کمانڈ نے 14-15 اپریل کو جاری کردہ رپورٹ میں لکھا:
"9 اپریل 2026 (مقام آپریشنل سیکیورٹی کی وجہ سے ظاہر نہیں کیا گیا) — MQ-4C تباہ ہو گیا، کوئی ذاتی زخمی نہیں ہوا۔”
حادثے کو "Class A Mishap” قرار دیا گیا ہے، جو اس وقت دیا جاتا ہے جب طیارہ مکمل طور پر تباہ ہو جائے یا بھاری نقصان ہو۔
ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ڈرون تکنیکی خرابی، الیکٹرانک وارفیئر، GPS jamming یا ایرانی فضائی دفاعی نظام کی وجہ سے تباہ ہوا۔ کچھ ذرائع میں ایرانی میزائل حملے کے امکانات کا ذکر ہے، لیکن امریکی فوج نے ابھی تک کوئی تفصیل جاری نہیں کی اور مقام بھی سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر خفیہ رکھا گیا ہے۔
MQ-4C ٹرائٹن شمالی گروپ مین (Northrop Grumman) کا بنایا ہوا ہے جو بحریہ کے لیے لمبی دوری کی نگرانی، بحری جاسوسی اور ریکنیسنس کے کام کرتا ہے۔ یہ RQ-4 گلوبل ہاک کا بحری ورژن ہے اور اس کی پرواز کی صلاحیت 30 گھنٹے سے زیادہ ہے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب علاقے میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک نازک سیز فائر کا معاہدہ نافذ ہے اور آبنائے ہرمز (جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد سپلائی گزرتی ہے) کی سیکیورٹی انتہائی حساس ہے۔
امریکی حکام نے ابھی تک مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مہنگے ڈرون کا نقصان امریکہ کی علاقائی نگرانی کی صلاحیت پر ایک بڑا دھچکا ہے۔

متعلقہ پوسٹ