لبنانی صدر جوزف عون کا اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے براہ راست مذاکرات سے انکار


لبنانی سفارت خانے نے واشنگٹن کو اپنے مؤقف سے آگاہ کر دیا
ٹرمپ نے 34 سال بعد دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان براہ راست بات چیت کا دعویٰ کیا تھا
بیروت/واشنگٹن (خبر رساں ادارے) — لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے براہ راست ٹیلیفونک یا دیگر رابطے سے انکار کر دیا ہے۔ لبنانی حکام کے مطابق، یہ موقف جنگ بندی نہ ہونے تک برقرار رہے گا۔ لبنانی سفارت خانے نے واشنگٹن میں امریکی انتظامیہ کو اس مؤقف سے پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو اپنے Truth Social پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل اور لبنان کے رہنماؤں کے درمیان 34 سال بعد براہ راست بات چیت ہوگی۔ ٹرمپ نے لکھا تھا: "اسرائیل اور لبنان کے درمیان تھوڑی سانس لینے کی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت 34 سال سے نہیں ہوئی۔ یہ کل ہو جائے گی۔” انہوں نے دونوں فریقوں کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کرنے کا بھی اشارہ دیا تھا۔746225
تاہم، لبنانی حکام نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ صدر عون نے امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو سے فون پر بات چیت کے دوران واضح کیا کہ موجودہ صورتحال میں (اسرائیلی حملوں اور تباہی کے پیش نظر) نیتن یاہو سے براہ راست رابطہ مناسب نہیں۔ لبنانی میڈیا LBCI اور متعدد عہدیداروں نے تصدیق کی کہ سفارت خانے نے اس سے قبل ہی امریکی انتظامیہ کو یہ موقف بتا دیا تھا۔0a8742
لبنان کی جانب سے جنگ بندی کو براہ راست مذاکرات کا پیشگی شرط قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اسرائیل نے ابھی تک مکمل جنگ بندی پر آمادگی کا اظہار نہیں کیا۔ حالیہ دنوں میں واشنگٹن میں اسرائیلی اور لبنانی سفیروں کے درمیان پہلی بار براہ راست ملاقات ہوئی تھی، جو 1993 کے بعد کی پہلی ایسی اعلیٰ سطحی مصروفیت تھی، لیکن اس سے براہ راست رہنماؤں کی سطح پر بات چیت کا راستہ ابھی ہموار نہیں ہو سکا۔
لبنانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ملک میں شدید داخلی دباؤ ہے کہ جب تک اسرائیلی حملے جاری ہیں اور تباہی ہو رہی ہے، اسرائیل کے ساتھ مزید رابطے نہ کیے جائیں۔ حزب اللہ اور اس کے حامی بھی براہ راست مذاکرات کی مخالفت کر رہے ہیں۔
دوسری جانب، ٹرمپ نے الگ سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان بھی کیا، جو جمعرات کو شام 5 بجے (امریکی وقت) سے نافذ العمل ہونا تھا، لیکن لبنانی صدر کے انکار نے براہ راست رابطوں کی کوشش کو عارضی طور پر پیچھے دھکیل دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، جہاں امریکہ دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کی کوشش کر رہا ہے۔ لبنان جنگ بندی اور اپنی خودمختاری کے تحفظ پر زور دے رہا ہے، جبکہ اسرائیل حزب اللہ سے متعلق مسائل حل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

متعلقہ پوسٹ