وزیر توانائی اویس لغاری نے پیک آورز میں لوڈشیڈنگ پر عوام سے معذرت کر لی

IMG 20260416 WA2126


آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث گیس نہیں مل رہی، دیگر ممالک کی نسبت پاکستان کی حالت بہتر ہے
اسلام آباد— وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے پیک آورز میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر عوام سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صورتحال عارضی ہے اور آج رات سے بجلی کی فراہمی میں بہتری آ جائے گی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور علاقائی صورتحال کے باعث درآمد شدہ گیس (ایل این جی) کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس کی وجہ سے پیک آورز میں گیس سے بجلی پیدا نہیں کی جا سکی۔ اس وقت تقریباً 4000 میگاواٹ کا شارٹ فال ہے، جس میں پن بجلی کی پیداوار میں 1600 میگاواٹ کی کمی اور ایل این جی نہ ملنے سے 3000 میگاواٹ کا اضافی شارٹ فال شامل ہے۔
اویس لغاری نے کہا:
"پیک آورز میں لوڈشیڈنگ ہونے پر عوام سے معذرت خواہ ہیں۔ ہم نے ہمیشہ پاکستان کو اندھیروں سے نکالا ہے۔ یہ لوڈشیڈنگ صرف پیک آورز میں ہے کیونکہ ہم پیک ٹائم پر گیس سے بجلی نہیں بنا سکتے۔ دن کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی۔”
وزیر نے مزید بتایا کہ دیہی اور شہری علاقوں میں یکساں لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، البتہ کے الیکٹرک اور حیدرآباد کے علاقوں میں لوڈشیڈنگ نہیں کی گئی۔ کے الیکٹرک نیشنل گرڈ سے ریکارڈ 2100 میگاواٹ بجلی لے رہا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ فرنس آئل سے 1440 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے اور جتنی پیداوار ممکن ہے حاصل کی جا رہی ہے۔
اویس لغاری نے تاکید کی کہ پاکستان کی صورتحال دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کی موجودہ صورتحال (ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ) کے باوجود ہمارے پاور پلانٹس زیادہ تر آپریشنل ہیں، صرف گیس کی قلت کا مسئلہ ہے۔ ایل این جی کی آمد اور پن بجلی کی پیداوار بڑھنے سے لوڈشیڈنگ جلد ختم ہو جائے گی۔
انہوں نے عوام کو آگاہ کیا کہ سوشل میڈیا پر غیر ذمہ دارانہ بیانات سے گریز کیا جائے اور حکومت توانائی بچت اور قابل تجدید ذرائع (سولر وغیرہ) کو فروغ دے رہی ہے۔

متعلقہ پوسٹ