ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو طاقت سے روکا جائے گا: امریکی جوائنٹ چیفس کے چیئرمین

IMG 20260416 WA2128


آبنائے ہرمز سے کسی کو گزرنے کی اجازت نہیں، امریکی افواج ایک اشارے پر حملے کے لیے تیار ہیں: جنرل ڈین کین
واشنگٹن (فارزانہ چوہدری) — امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے واضح پیغام دیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی پٹی کی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی جہاز کو طاقت کے استعمال سے روکا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی افواج ایک اشارے پر کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو بورڈنگ، قبضے اور ضروری صورت میں فورس کا استعمال کرتے ہوئے روکا جائے گا۔
پینٹاگون میں پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے جنرل ڈین کین نے بتایا کہ اب تک 13 جہازوں نے ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی بجائے واپس مڑنے کا "عقلمند فیصلہ” کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناکہ بندی ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں تک محدود ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے غیر ایرانی بندرگاہوں کے جہازوں کی آزادی کو متاثر نہیں کیا جا رہا۔
جنرل کین نے مزید کہا:
"اگر کوئی جہاز ناکہ بندی عبور کرنے کی کوشش کرے گا تو ہمارے بحریہ کے اہلکار پہلے سے طے شدہ منصوبوں کے تحت کارروائی کریں گے — ضرورت پڑنے پر جہاز کو بورڈ کیا جائے گا اور قبضے میں لے لیا جائے گا۔ ہم نے وارننگ دی ہے کہ ‘ناکہ بندی توڑنے کی کوشش نہ کریں، واپس مڑ جائیں یا بورڈنگ کے لیے تیار ہو جائیں۔ اگر تعمیل نہ کی تو فورس کا استعمال کیا جائے گا’۔”
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے بھی تصدیق کی کہ ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والی معاشی تجارت کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ اس آپریشن میں 10,000 سے زائد امریکی فوجی، متعدد جنگی جہاز اور طیارے شامل ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر شروع کی گئی یہ ناکہ بندی ایران پر دباؤ بڑھانے کا حصہ ہے، جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایرانی بندرگاہوں تک محدود ہے اور بین الاقوامی بحری راستوں کی آزادی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

متعلقہ پوسٹ