“امریکی حملے کے بعد مذاکرات کی کوئی اہمیت نہیں رہی” – ایرانی رکن پارلیمنٹ سید محمود نبویان

IMG 20260420 WA2086


اسلام آباد/تہران: اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کے پہلے مرحلے میں شریک ایرانی رکن پارلیمنٹ سید محمود نبویان نے کہا ہے کہ گزشتہ روز امریکی فورسز کی جانب سے ایرانی جہاز پر حملے اور اسے ضبط کرنے کے بعد مذاکرات کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایکس پر جاری بیان میں نبویان نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ان ”دہشتگرد لٹیروں“ کو بھرپور جواب دیا جائے اور دشمن کو ایرانی قوم کے سخت ردعمل کا انتظار کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا: ”امریکا کی جانب سے گزشتہ روز ایرانی جہاز پر حملے کے بعد مذاکرات کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ اب ان دہشتگرد لٹیروں کو بھرپور جواب دینے کا وقت آگیا ہے۔ دشمن کو ایرانی قوم کے سخت ردعمل کا انتظار کرنا چاہیے۔“
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ نے خلیج عمان/آباد ہرمز کے قریب ایرانی جہاز (MV Touska) پر حملہ کر کے اسے روک لیا۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ جہاز ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا، جبکہ ایران اسے سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دے رہا ہے۔
اس پیش رفت سے اسلام آباد میں طے شدہ دوسرے مرحلے کے مذاکرات پر سنگین سوالیہ نشان لگ گیا ہے، جہاں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں وفد پہنچنے والا تھا۔
صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ