سابق بھارتی آرمی چیف اور آر ایس ایس کی پاکستان سے مذاکرات کی حمایت — بھارت میں نئی سوچ کا آغاز؟

IMG 20260514 WA0465


نئی دہلی — بھارت میں ایک اہم پیش رفت کے تحت سابق آرمی چیف جنرل (ر) منوج نروانے اور ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس کے سرکردہ رہنماؤں نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات اور تعلقات کی بحالی کی کھل کر حمایت کر دی ہے۔
جنرل (ر) منوج نروانے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ سرحد کے دونوں جانب عام آدمی ایک جیسے مسائل — روٹی، کپڑا اور روزگار — کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور جب دونوں اطراف کے لوگوں میں دوستی ہوگی تو دونوں ملکوں کے درمیان بھی امن قائم ہوگا۔
دوسری جانب آر ایس ایس کے جنرل سیکرٹری دتاتریہ ہوسابالے نے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو پاکستان سے مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کرنے چاہئیں، سفارتی تعلقات کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ تجارت، کاروبار اور ویزے جاری رہیں۔
بی سی سی آئی کے نائب صدر راجیو شکلا نے بھی تصدیق کی کہ آر ایس ایس اب پاکستان کے ساتھ بات چیت، اچھے تعلقات، ویزے، تجارت اور کرکٹ کی بحالی کی وکالت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کے اس بیان پر بھارتی حکومت کا ردعمل جاننا ضروری ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت اور پاکستان کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں، تاہم ان بیانات کو دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلانے کی ابتدائی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ پوسٹ