تہران — ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں جاری سفارتی مذاکرات کے ذریعے ایران اور امریکا کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو حتمی شکل دینے پر سنجیدہ کام جاری ہے۔
بقائی نے خبررساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم معاہدے سے ابھی کافی دور بھی ہیں اور کافی قریب بھی”، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکی حکام بار بار اپنی پوزیشن تبدیل کر رہے ہیں، جس سے مذاکراتی عمل میں پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے ترجمان نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم عالمی آبی گزرگاہ سے متعلق کسی بھی نظام یا طریقہ کار پر فیصلہ صرف ایران، عمان اور اس خطے کے ممالک کے درمیان ہونا چاہیے — امریکا کا اس معاملے میں کوئی کردار نہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے اور اس پر کسی بھی کشیدگی کے عالمی توانائی بازاروں پر براہ راست اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
پاکستان نے حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی پُل کا کردار ادا کیا ہے اور اسلام آباد کی ثالثی کو دونوں فریقوں نے قبول کیا ہے۔

